ماسکو+تہران :مشرق وسطیٰ میں روز بروز بڑھتی ہوئی عسکری محاذ آرائی اور خطرناک کشیدگی کے پس منظر میں روس نے ایک بار پھر فعال سفارتی کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ روسی وزارتِ خارجہ کے اعلان کے مطابق، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کل (پیر کے روز) ایک اہم دورے پر تہران پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے تفصیلی مذاکرات کریں گے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق یہ دورہ ایسے نازک وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ (واشنگٹن) اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات مکمل طور پر تعطل کا شکار ہیں اور خطے میں کسی بھی وقت بڑے ٹکراؤ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں روس دونوں حریف ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ثالثی کے فرائض انجام دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریہ زاخاروا کے مطابق، اس اعلیٰ سطح کے دورے کا بنیادی ہدف ایران کے اردگرد رونما ہونے والی حالیہ صورتحال کا احاطہ کرنا ہے۔ مذاکرات کے دوران خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ اورسفارتی امور پر خاص توجہ دی جائے گی جس کے تحت مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے میں جنگ کے بادلوں کو چھٹانے اور عسکری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ماسکو کی سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانا شامل ہے جبکہ ماسکو اور تہران کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات، دوطرفہ معاہدوں پر عمل درآمد اور آئندہ کے رابطوں کا شیڈول بھی طے کیا جائے گا اسی طرح واشنگٹن-تہران ڈیڈلاک کا شکار ہونے والے امریکی-ایرانی مذاکرات اور ممکنہ سفارتی راستوں کی تلاش پر غور ہوگا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ سرگئی لاوروف کا یہ دورہ خطے کی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ روس کی جانب سے تہران کے ساتھ اس قریبی رابطے کو عالمی سطح پر بڑی اہمیت دی جا رہی ہے، کیونکہ ماسکو مشرق وسطیٰ کے موجودہ بحران میں نہ صرف ایران کا کلیدی اتحادی ہے بلکہ وہ اس بحران کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے سفارتی سطح پر بھی سرگرمِ عمل ہے۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے بعد خطے کی سکیورٹی صورتحال سے متعلق اہم اعلانات متوقع ہیں۔
خطے میں ہنگامہ خیز صورتحال: روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اہم مشن پر کب تہران پہنچیں گے؟

