گوجرانوالہ :وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ مجبوری کے تحت کیا گیا۔ ان کے بقول صوبے میں آئے روز دھمکیوں اور لانگ مارچ کے اعلانات سے صورتحال بدستور کشیدہ ہو رہی تھی، جبکہ بعض عناصر خونریزی کا منصوبہ بنا رہے تھے۔
صوبہ پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں سنیچر کو سابق رکن قومی اسمبلی بشیر ورک کے تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ گذشتہ ڈھائی سال کے دوران خیبرپختونخوا میں سکیورٹی اور انتظامی امور پر پیش رفت کے لیے متعدد کوششیں کی گئیں اور اس سلسلے میں موجودہ اور سابق وزرائے اعلیٰ کے ساتھ ایک سے زیادہ ملاقاتیں بھی ہوئیں۔
انھوں نے کہا کہ صوبائی قیادت کو مسلسل یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ خیبرپختونخوا ایک غیور صوبہ ہے اور وفاق ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔ وزیراعظم کے مطابق افغانستان سے جڑی دہشتگردی، جو ان کے بقول 2018 سے شدت اختیار کر رہی ہے، کا مقابلہ صرف قومی یکجہتی اور مشترکہ حکمتِ عملی سے کیا جا سکتا ہے۔
"ہم نے آخری کوشش کرتے ہوئے ایک باقاعدہ کمیٹی بنائی، جس کے ساتھ دن رات 48 گھنٹے گفت و شنید کی۔ بالآخر ایک مسودہ تیار ہوا، جس پر مکمل اتفاق ہو گیا تھا اور طے پایا تھا کہ لانگ مارچ اور دھرنے کی کال واپس لے لی جائے گی۔
معاملات حتمی مرحلے میں پہنچے مگر حکم یہی تھا کہ کسی صورت کوئی معاملہ طے نہیں کرنا، چاہے ملک تباہ ہو جائے۔ ہمارے پاس دو راستے تھے، یا تو خاموش تماشائی بن کر تباہی دیکھتے رہتے یا پاکستان کے بہترین مفاد میں فیصلہ کرتے۔ اگر ہم مجرمانہ غفلت کرتے تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہ کرتیں، اس لیے مجبوراً یہ فیصلہ کرنا پڑا۔
اس کے اچھے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ایڈوائزری کونسل غیر سیاسی اور مستند لوگوں پر مشتمل ہے، جو معاملات بہتر بنانے کی اہل ہے۔ ان شاء اللہ، معاملات ٹھیک کرنے کے لیے جلد وہاں جاؤں گا۔"
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی گوجرانوالہ میں گفتگو
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) October 17, 2026
شہباز شریف نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور عام شہری دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دے چکے ہیں۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت نے مسائل کے حل کے لیے متعدد کوششیں کیں، تاہم اس دوران حکومت کو بارہا احتجاجی تحریکوں اور لانگ مارچز کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ حالیہ سیاسی بحران کے دوران مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی ایک مشترکہ کمیٹی قائم کی گئی تھی جس نے 48 گھنٹوں تک مشاورت کے بعد ایک متفقہ مسودہ تیار کر لیا تھا، تاہم بعد ازاں معاملات طے نہ پا سکے۔
انھوں نے کہا کہ اگر بروقت فیصلے نہ کیے جاتے تو حالات مزید خراب ہو سکتے تھے۔ وزیراعظم نے صورتحال کو ’روم جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجا رہا تھا‘ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے بہترین مفاد میں فوری فیصلہ ناگزیر ہو گیا تھا۔
شہباز شریف نے بتایا کہ صوبے میں 11 رکنی غیر سیاسی ایڈوائزری کونسل قائم کر دی گئی ہے، جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت اور اچھی شہرت کے حامل افراد شامل ہیں۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ موجودہ اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ وہ جلد خیبرپختونخوا کا دورہ کریں گے اور وہاں اجلاسوں کی صدارت کریں گے۔ ان کے مطابق ملکی معیشت، جو کچھ عرصہ قبل دباؤ کا شکار تھی، اب استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے، اگرچہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے باعث مہنگائی کے خدشات بدستور موجود ہیں۔
فیول سبسڈی پروگرام کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ 75 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی گئی، جس سے اب تک ایک کروڑ 20 لاکھ افراد مستفید ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ ان کے بقول اس پروگرام سے براہِ راست یا بالواسطہ تقریباً ساڑھے چھ کروڑ افراد فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

