اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ملک میں نچلے اور درمیانے طبقے کے لیے باورچی خانے کے اخراجات کو سنبھالنا مزید دشوار ہو گیا ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات (PBS) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق ملک میں حساس قیمتوں کے اشاریئے (SPI) کی بنیاد پر شارٹ ٹرم مہنگائی کی سالانہ شرح 11.38 فیصد کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔
ادارہ شماریات کے مطابق، 17 شہروں کی 50 اہم مارکیٹوں میں 51 ضروری اشیائے خورونوش اور خدمات کے جائزے کے بعد جاری ہونے والے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مجموعی طور پر 23 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ 7 اشیا سستی ہوئیں اور 21 اشیا کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق ہفتہ وار بنیادوں پر جن بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا ان میں شامل ہیںدال چنا: 4.97 فیصد اضافہآٹا: 3.36 فیصد اضافہچکن (زندہ مرغی): 3.31 فیصد اضافہ انڈے: 0.99 فیصد اضافہ دال ماش: 0.98 فیصد اور دال مسور میں 0.95 فیصد اضافہ دیگر اشیا: ایل پی جی سلنڈر (0.42%)، جلانے والی لکڑی، اور تیار چائے کی قیمتوں میں بھی بالترتیب اضافہ دیکھا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ہفتہ وار بنیادوں پر ٹماٹر اور پیٹرول کی قیمتوں میں کمی سے ہفتہ وار انڈیکس میں 0.04 فیصد کی معمولی کمی دیکھی گئی ٹماٹر: 23.05 فیصد سستے ہوئے۔پیاز: 4.90 فیصد کمی کیلے: 2.59 فیصد سستے ہوئےپیٹرول و چینی: حالیہ پیٹرولیم قیمتوں کے ایڈجسٹمنٹ کے باعث پیٹرول میں 0.70 فیصد اور چینی میں 0.62 فیصد کی معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔اگر سالانہ بنیادوں پر قیمتوں کا تقابل کیا جائے تو ایندھن اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث عوام کا بجٹ شدید متاثر ہوا ہے:ایل پی جی (LPG) +68.95%بجلی (پہلی سہ ماہی/پائپ لائن) +58.59%پیٹرول و ڈیزل +43.98% سے +49.60%آٹا +35.13%چکن +20.77%معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی مسلسل اونچی قیمتوں کے باعث ٹرانسپورٹیشن کی لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے روزمرہ استعمال کی اشیا (کاسٹ پش انفلیشن) جیسے کہ آٹا، دالیں اور مرغی عوام کی پہنچ سے دور ہو رہی ہیں۔ جب تک ایندھن کی قیمتیں مستحکم نہیں ہوتیں، شارٹ ٹرم مہنگائی کا دہرے ہندسے (Double Digits) میں برقرار رہنے کا امکان ہے
عوام پر مہنگائی کا ایک اور وار: سالانہ شرح 11.38 فیصد تک پہنچ گئی؛ آٹا، چکن اور دالوں سمیت 23 بنیادی اشیا مزید مہنگی

