ٹیکساس (نیوز ڈیسک)دنیا کے سب سے امیر ترین شخص اور معروف امریکی صنعت کار ایلون مسک اور ان کی سیاسی کمیٹی ‘امریکہ پیک’ (America PAC) نے 2024ء کے امریکی صدارتی انتخابات کے دوران دیے گئے متنازع 10 لاکھ ڈالر روزانہ کی قرعہ اندازی کے وعدے پر دائر دو بڑے کلاس ایکشن مقدمات میں تصفیہ (Settlement) کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
ٹیکساس کے شہر آسٹن کی فیڈرل کورٹ میں جمع کروائی گئی درخواست میں مسک اور درخواست گزاروں کے وکلاء نے جج کو آگاہ کیا کہ فریقین کے درمیان عدالت سے باہر معاہدہ طے پا گیا ہے، جو اب عدالت کی حتمی منظوری کا منتظر ہے۔
یاد رہے 2024ء کے صدارتی الیکشن کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کو تقویت دینے کے لیے ای لون مسک نے اعلان کیا تھا کہ امریکی آئین کی حمایت میں ان کی پٹیشن پر دستخط کرنے والے 7 الیکشن پر اثر انداز ہونے والی (Swing) ریاستوں کے ووٹروں میں سے روزانہ قرعہ اندازی کے ذریعے ایک شخص کو 10 لاکھ ڈالر (تقریباً 28 کروڑ پاکستانی روپے) کا انعام دیا جائے گا۔
ریاست ایریزونا کے رہائشیوں نے مسک اور ان کی کمیٹی کے خلاف عدالت سے رجوع کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ: ووٹروں کو یہ تاثر دے کر گمراہ کیا گیا کہ 10 لاکھ ڈالر کا انعام قرعہ اندازی (Lottery) کے ذریعے مکمل طور پر بلا تفریق اور رینڈم (Random) نکالا جائے گا۔
بعد ازاں دورانِ سماعت مسک کے وکلاء نے اعتراف کیا کہ یہ رقم قرعہ اندازی کے بجائے پہلے سے منتخب کردہ ‘ترجمانوں’ کو ان کے کام کے عوض دی جاتی تھی۔ شہریوں کا دعویٰ تھا کہ ان سے ‘لاٹری’ کا جھانسا دے کر ان کا ذاتی ڈیٹا اور پٹیشن پر دستخط حاصل کیے گئے۔
درخواست میں فریقین کے درمیان طے پانے والی مالی یا دیگر شرائط کا انکشاف نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی وکلاء نے اس پر کوئی اضافی تبصرہ کیا ہے۔ای لون مسک اور ان کی ٹیم نے ان تمام الزامات اور دھوکہ دہی کے دعوؤں کو مسلسل مسترد کیا تھا۔ تاہم، رواں سال جون میں فیڈرل جج کی جانب سے ای لون مسک کو خود عدالت میں پیش ہو کر گواہی دینے کا حکم دیا گیا تھا، جس کے بعد اب دونوں فریقین نے مقدمے کو باہمی رضامندی سے ختم کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے۔
ایلون مسک کا بڑا فیصلہ: 2024ء امریکی انتخابات کے 10 لاکھ ڈالر روزانہ قرعہ اندازی کیس میں ‘راضی نامہ’!

