پسرور :رپورٹ: محمد اشفاق
سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز (فیس بک اور ٹک ٹاک وغیرہ) پر آج کل ایک ویڈیو انتہائی تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ترکی میں حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی دریافت ہو گئی ہے اور اسے ٹرالر پر بار کر کے کسی دوسری جگہ منتقل کیا جا رہا ہے۔ تاہم، تفصیلی تحقیق کے بعد یہ تمام ویڈیوز 100 فیصد جعلی اور مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کردہ ثابت ہوئی ہیں۔معروف امریکی فیکٹ چیک ادارے "Lead Stories” سمیت کئی ڈیجیٹل اداروں نے اس وائرل مواد کی تردید کرتے ہوئے درج ذیل حقائق سامنے رکھے ہیں:ہائی موڈریشن ٹول (Hive Moderation): اس ٹول نے اس وائرل ویڈیو کا تفصیلی تجزیہ کرنے کے بعد اسے 99.9% مصنوعی ذہانت (AI) ساختہ قرار دیا ہے۔اوپن اے آئی (OpenAI) واٹر مارک: ویڈیو کے ڈیجیٹل سگنلز اور تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ اس میں اوپن اے آئی کا خفیہ واٹر مارک موجود ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ ویڈیوز کمپیوٹر جنریٹڈ ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ترکی کے مقام دوروپنار (Doğubeyazıt / Durupeinar) پر ماہرین آثارِ قدیمہ کی جانب سے صرف روایتی چھوٹی ڈرلنگ کے ذریعے مٹی کے نمونے حاصل کیے جا رہے ہیں تاکہ ارضیاتی حقائق کا جائزہ لیا جا سکے، زمینی کھدائی سے اب تک ایسی کوئی کشتی یا ڈھانچہ برآمد نہیں ہوا۔ خود اس پراجیکٹ سے وابستہ محققین کا کہنا ہے کہ تاحال کوئی بھی لکڑی یا اس نوعیت کا مادی ثبوت نہیں ملا۔صحافتی و سماجی حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کی جھوٹی اور من گھڑت ویڈیوز کو بغیر سوچے سمجھے سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے گریز کیا جائے۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ حضرت نوحؑ کی کشتی کو "جودی” پہاڑ پر ٹھہرایا گیا اور اسے ایک عبرت و نشانی بنایا گیا، لہٰذا محض سستے ویوز، لائکس یا شہرت کے لیے مذہبی مقدسات اور حقائق کو اے آئی (AI) ویڈیوز کے ذریعے مسخ کرنے اور ایمان کا مذاق بنانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔


