کیلے فورنیا :ٹیکنالوجی کے میدان سے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے جہاں معروف امریکی کمپنی ’گوگل‘ نے اپنے سرچ انجن میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) سے پیدا ہونے والے نتائج میں بڑا ردوبدل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نجی ویب سائٹس اور خبر رساں اداروں کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے اب اے آئی خلاصوں کے ساتھ ویب لنکس اور خبروں کی سرخیوں کو زیادہ نمایاں اور اوپر کی جانب دکھایا جائے گا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ اہم اقدام دنیا بھر کے میڈیا ہاؤسز، ناشرین اور برانڈز کی جانب سے ٹریفک میں ریکارڈ کمی کی شکایات کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
ٹریفک میں 40 فیصد کمی: میڈیا تجزیاتی ادارے ’چارٹ بیٹ‘ کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2025 سے جولائی 2026 کے عرصے میں اے آئی خلاصوں کی وجہ سے نجی خبر رساں ویب سائٹس پر گوگل سے آنے والی ٹریفک میں 40 فیصد کی خطرناک حد تک کمی دیکھی گئی۔
قانونی و انتظامی شکایات: اگست میں فرانس کے معروف اخبارات کی تنظیم ’ایپگ‘ نے ملکی کمپیٹیشن اتھارٹی سے رجوع کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ گوگل کے اے آئی خلاصے ناشرین کے ساتھ طے شدہ سابقہ معاہدوں کی خلاف ورزی ہیں۔
صارفین کا عدم رجوع: مئی 2024 میں متعارف کرائے گئے ’اے آئی اوور ویوز‘ اور مارچ 2025 میں پیش کیے گئے ’اے آئی موڈ‘ کے باعث صارفین تمام معلومات سرچ پیج پر ہی حاصل کر لیتے تھے، جس سے وہ اصل ویب سائٹس پر کلک کرنا چھوڑ چکے تھے۔
گوگل نے مزید جدید فیچر شامل کئے ہیں جس کے تحت نمایاں لنکس شامل کئے جائیں گےاے آئی سے تیار کردہ جوابات کے اندر اور اوپر لنکس کی تعداد اور نمائش میں اضافہ کیا گیا ہے۔
اے آئی اوور ویوز کے بالکل نیچے تصاویر، سرخیوں اور کارڈز کی شکل میں مضامین دکھائے جائیں گےالگورتھم صارف کے منتخب کردہ ’پسندیدہ ذرائع‘ (Favorite Sources) کی خبروں کو اولیت دے گا۔
جبکہ سرچ نتائج میں موثر سوشل میڈیا پوسٹس اور آن لائن فورمز کی تحریریں بھی شامل ہوں گی۔
الفابیٹ کے سربراہ سندر پچائی کا بتانا ہے کہ سال 2025 کے آدھ تک دنیا کے 200 سے زائد ممالک میں اے آئی سرچ فیچرز استعمال کرنے والوں کی تعداد 2 ارب سے تجاوز کر چکی ہے۔ کمپنی کا ماننا ہے کہ ان جدید اصلاحات سے جہاں صارفین کے لیے اصل ویب سائٹس تک پہنچنا آسان ہوگا، وہیں خبر رساں اداروں کے معاشی و تجارتی خدشات کا ازالہ بھی ممکن ہو سکے گا۔
گوگل کا بڑا اعلان، نیوز ویب سائٹس اور خبر رساں اداروں کیلئے خوشخبری

