اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ بیرسٹر گوہر نے خیبر پختونخوا میں وفاقی حکومت کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ کو شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے یکسر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو جمہوری اقدار کی خلاف ورزی اور ایک انتہائی تشویشناک سیاسی غلطی قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری کردہ اپنے باضابطہ بیان میں پی ٹی آئی سربراہ نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کا مینڈیٹ ان کا آئینی اور قانونی حق ہے۔ صوبائی خودمختاری کو کمزور کر کے اور وفاق و صوبے کے درمیان ٹکراؤ پیدا کر کے نہ تو امن قائم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ملک میں استحکام لایا جا سکتا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان کا خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر ردِعمل:
ہم صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور اس اقدام کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی تشویشناک اور سنگین سیاسی غلطی اور غیر جمہوری اقدام ہے- عوام اپنے حقوق کے خلاف ایسے اقدامات کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔
خیبرپختونخوا کے عوام کا مینڈیٹ ان کا آئینی اور قانونی حق ہے۔ اس مینڈیٹ کو نظر انداز کرکے، صوبائی خودمختاری کو کمزور کرکے اور وفاق و صوبے کے درمیان تصادم پیدا کرکے نہ امن قائم کیا جاسکتا ہے اور نہ استحکام لایا جاسکتا ہے۔
دہشت گردی کے خاتمے پر کوئی اختلاف نہیں، لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ کو عوامی آواز کو دبانے، سیاسی مقاصد کے حصول یا صوبے کے آئینی اختیارات محدود کرنے کا جواز نہیں بنایا جاسکتا۔ دہشت گردی کا مقابلہ قومی یکجہتی اور مشترکہ حکمتِ عملی سے ہی ممکن ہے۔
صوبوں کو کمزور کرکے وفاق مضبوط نہیں ہوسکتا۔ مسائل کا حل طاقت، تصادم اور غیر معمولی اقدامات میں نہیں بلکہ سیاسی بصیرت، آئین کی بالادستی اور بامعنی مذاکرات اور عملی اقدامات میں ہے۔
ہم عوامی مینڈیٹ، صوبائی خودمختاری اور آئینی و جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے ہر آئینی، قانونی اور جمہوری فورم پر بھرپور آواز اٹھائیں گے۔
مضبوط صوبے ہی مضبوط وفاق کی بنیاد ہیں، اور آئین کی حکمرانی ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے۔
ابھی بھی وقت ہے، اس فیصلے کو چند دنوں میں واپس لیا جاسکتا ہے۔ وفاق ego کو جانے دیں، زمینی حقائق کو سمجھے ، جائز مطالبات تسلیم کرے، عوام کے احساسات اور جذبات کا احترام کرے اور ملک کو مزید سیاسی و معاشی نقصان اور جمہوری عمل کو پیچھے دھکیلنے سے بچائے۔ سیاسی فیصلوں پر نظرثانی کمزوری نہیں بلکہ قومی مفاد میں دانش مندی کی علامت ہوتی ہے- otherwise بہت نقصان ہوجائیگا
— Barrister Gohar Khan (@BarristerGohar) October 11, 2026
"دہشت گردی کی جنگ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے”
بیرسٹر گوہر نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے پر کوئی دو رائے یا اختلاف نہیں ہے، لیکن اس جنگ کو عوامی آواز کو دبانے، سیاسی مقاصد حاصل کرنے یا صوبے کے آئینی اختیارات کو سلب کرنے کا جواز نہیں بنایا جانا چاہیے۔ دہشت گردی کا مقابلہ صرف قومی یکجہتی، ہم آہنگی اور مشترکہ حکمتِ عملی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبوں کو کمزور کر کے وفاق کبھی مضبوط نہیں ہو سکتا۔ مسائل کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ سیاسی بصیرت، آئین کی بالادستی اور بامعنی مذاکرات میں ہے۔بیرسٹر گوہر نے وفاقی حکومت کو مشورہ دیتے ہوئے کہا:”ابھی بھی وقت ہے، اس فیصلے کو چند دنوں میں واپس لیا جائے۔ وفاق اپنی انا کو پسِ پشت ڈال کر زمینی حقائق کو سمجھے، جائز مطالبات تسلیم کرے اور ملک کو مزید سیاسی و معاشی نقصان سے بچائے۔ سیاسی فیصلوں پر نظرثانی کمزوری نہیں بلکہ قومی مفاد میں دانش مندی کی علامت ہوتی ہے۔”
پی ٹی آئی سربراہ نے عزم ظاہر کیا کہ ان کی پارٹی عوامی مینڈیٹ، صوبائی خودمختاری اور آئینی و جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے تمام آئینی، قانونی اور جمہوری فورمز پر بھرپور آواز اٹھاتی رہے گی۔

