نیویارک:محبت کے دعوے اور رشتوں کے تقدس اپنی جگہ، لیکن طلاق کی تلخی جب عروج پر پہنچ جائے تو انسان کن حد تک جا سکتا ہے، اس کی ایک ہولناک اور انوکھی مثال امریکہ میں دیکھنے میں آئی جہاں ایک سرجن نے اپنی سابقہ اہلیہ سے طلاق کے تنازع پر وہ گردہ واپس مانگ لیا جو انہوں نے برسوں پہلے اپنی جان بچانے کے لیے اسے عطیہ کیا تھا، یا پھر اس کے بدلے 15 لاکھ ڈالر کی خطیر رقم کا مطالبہ کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق یہ انوکھا اور حیرت انگیز معاملہ نیویارک میں اس وقت دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنا جب ڈاکٹر رچرڈ بتیسٹا (Dr. Richard Batista) نامی سرجن نے اپنی تلخ طلاق کی قانونی جنگ کے دوران عدالت میں ایک ایسا مطالبہ پیش کیا جس نے طبی اور قانونی حلقوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
کہانی کچھ یوں ہے کہ سال 2001 کے جون میں ڈاکٹر رچرڈ بتیسٹا نے اپنی اہلیہ ڈانیل (Danielle) کی زندگی بچانے کے لیے اپنا ایک گردہ انہیں عطیہ کیا تھا، کیونکہ ان کے دونوں گردے فیل ہو چکے تھے اور وہ موت کے منہ میں جا رہی تھیں۔ سرجن شوہر کے اس بروقت اور عظیم عطیے نے ڈانیل کی زندگی بچا لی، تاہم چند سال بعد ان کے ازدواجی تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو گئی اور بات طلاق تک جا پہنچی۔
جب ڈانیل نے 2005 میں طلاق کے لیے باضابطہ درخواست دائر کی، تو ڈاکٹر رچرڈ نے اپنے وکیل کے توسط سے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ یہ گردہ انہوں نے ہی عطیہ کیا تھا اور اب رشتہ ختم ہو رہا ہے، اس لیے یا تو ان کی جان بچانے والا یہ قیمتی عضو انہیں واپس کیا جائے یا پھر موجودہ مارکیٹ ویلیو کے حساب سے 15 لاکھ ڈالر (1.5 ملین ڈالر) نقد ادا کیے جائیں، تاکہ اسے جائیداد کی تقسیم اور تصفیے کا حصہ بنایا جا سکے۔
اس عجیب و غریب اور سنسنی خیز مقدمے نے انسانی رشتوں، اخلاقیات اور جذبات کی دنیا میں ایک نئی بحث چھوٹی تھی کہ کیا محبت اور انسانیت کے نام پر دیے گئے عطیات کو بھی طلاق کے بعد واپس مانگا جا سکتا ہے؟
عشق سے لے کر طلاق تک: میرا گردہ واپس کرو یا 15 لاکھ ڈالر دو، شوہر کا بیوی سے مطالبہ

