لندن:دنیا بھر میں اپنے شاہکار اور سنسنی خیز ناولز کے ذریعے قارئین کے دلوں پر راج کرنے والے مشہور برطانوی مصنف اور سابق سیاستدان جیفری آرچر (Jeffrey Archer) 86 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔
ان کے پبلشر ہارپر کالنز (HarperCollins) نے تصدیق کی ہے کہ جیفری آرچر اپنے گھر پر اپنا ناول لکھنےکے دوران اچانک اور پُرسکون انداز میں اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کا آخری اور انتہائی متوقع ناول "ایڈم اینڈ ایو” (Adam and Eve) ان کی وفات کے اگلے ہی روز منظرِ عام پر آنے والا تھا۔
جیفری آرچر کا ادبی کیریئر پانچ دہائیوں پر محیط رہا، جس دوران ان کی کتابوں کی دنیا بھر میں 30 سے زائد کاپیاں فروخت ہوئیں۔ انہوں نے 1976 میں اپنے پہلے ناول "نو اے پینی مور، نو اے پینی لیس” اور 1979 کے شہرہ آفاق ناول "کین اینڈ ایبل” (Kane & Abel) سے بین الاقوامی شہرت حاصل کی۔
ہارپر کالنز کی برطانوی سی ای او اور ان کی ایڈیٹر کیٹ ایلٹن نے خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایک ایسے عظیم لکھاری کو کھو دیا ہے جس نے نسلوں کو خوشیاں اور خوبصورت کہانیاں دیں۔
جیفری آرچر جتنا اپنی شاندار قلمی صلاحیتوں کی وجہ سے معروف تھے، اتنی ہی ان کی ذاتی اور سیاسی زندگی تنازعات اور سنسنی کا شکار رہی۔ وہ مارگریٹ تھیچر کے دورِ حکومت میں کنزرویٹو پارٹی کے ایک نمایاں اور سینئر عہدیدار کی حیثیت سے سیاست میں سرگرم رہے۔ تاہم، ان کی زندگی کا سب سے بڑا موڑ 1987 میں آیا جب انہوں نے ایک اخبار کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ جیتا۔ سال 1999 میں جب انہیں لندن کے پہلے منتخب مئیر کے لیے کنزرویٹو امیدوار نامزد کیا گیا تو پرانے راز کھل گئے اور ایک دوست کے الزامات پر ان پر جھوٹی گواہی دینے (Perjury) اور عدالتی کارروائی کو متاثر کرنے کا مقدمہ چلا۔ عدالت نے انہیں مجرم قرار دے کر چار سال قید کی سزا سنائی، جس میں سے انہوں نے دو سال جیل میں گزارے اور اسی دوران اپنی مشہور کتاب "اے پرزن ڈائری” لکھی۔
جیفری آرچر کا متنازع ٹرائل اور یادگار عدالتی ریمارکس:
جیفری آرچر کا ہتکِ عزت کا وہ تاریخی مقدمہ برطانوی تاریخ کا ایک یادگار باب بن گیا تھا، جس میں جج برنارڈ كارفیلڈ نے ان کی اہلیہ میری آرچر کی عدالت میں موجودگی پر جیوری سے تاریخی جملے کہے تھے کہ کیا ان میں نفاست اور معجزاتی دلکشی ہے؟قانونی اور سیاسی طوفانوں کے باوجود جیفری آرچر کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی اور ان کی کتابیں دنیا کے 119 ممالک میں شوق سے پڑھی جاتی رہیں۔ وہ اپنی زندگی کے آخری ایام تک لکھنے کے عمل سے جڑے رہے اور اپنے آخری ناول کی تشہیری مہم میں مصروف تھے۔
کروڑوں دلوں پر راج کرنے والے معروف برطانوی ناول نگار سیاستدان جیفری آرچر 86 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

