واشنگٹن: امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے عوامی سطح پر عدم مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ اے پی-نورک (AP-NORC) کے تازہ ترین عوامی سروے کے مطابق 69 فیصد امریکی شہریوں نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ یہ جنگ لڑنے کے لائق ہی نہیں تھی۔
مڈٹرم انتخابات میں اب صرف ایک ماہ کا وقت باقی رہ گیا ہے، اور اس نازک موڑ پر سامنے آنے والے اس پول نے وائٹ ہاؤس کے لیے مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق 71 فیصد عوام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے طرزِ عمل اور ایران سے نمٹنے کی پالیسیوں سے شدید ناخوش ہیں، جبکہ 65 فیصد شہریوں کا براہ راست یہ ماننا ہے کہ ملکی معیشت میں مہنگائی اور اشیائے خور و نوش و ایندھن کی بلند قیمتوں کے ذمہ دار خود صدر ٹرمپ کی غلط پالیسیاں ہیں۔
انتخابات سے قبل بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ نے سیاسی منظرنامے کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس سے قبل جون کے مہینے میں ایوانِ نمائندگان (House) پہلے ہی وار پاورز ریزولوشن (War Powers Resolution) منظور کر چکا ہے، جبکہ ستمبر میں سینیٹ میں بھی ایسا ہی بل محض ایک ووٹ سے منظور نہیں ہوسکا تھا۔ اب ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مڈٹرم انتخابات میں ایوان کا کنٹرول بدلا تو ایران جنگ کی فنڈنگ اور اس کی قانونی حیثیت کا معاملہ ایک بار پھر پارلیمنٹ کے ایوانوں میں گونجے گا۔
اگر نومبر کے انتخابات کے بعد ایران پر بمباری کا نیا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو یہ اس جنگ کا "راؤنڈ ٹو” ہوگا جسے اکثریت پہلے ہی بے معنی قرار دے چکی ہے۔ اس صورتحال میں کسی بھی نئی کانگریس کی پوری کوشش ہوگی کہ اگلے بحری بیڑے سے ایک بھی گولی چلنے سے پہلے اس جنگ کے اخراجات اور تسلسل پر باضابطہ ووٹنگ کرائی جائے۔
امریکیوں کی اکثریت نے ایران جنگ کو مسترد کردیا: تازہ ترین سروے نے ٹرمپ انتظامیہ کی نیندیں اڑا دیں!

