لاہور: سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کے افسران کے خلاف کرپشن، رشوت ستانی اور شہریوں کو ہراساں کرنے کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ کرپٹ افسران کے خلاف تحقیقاتی کمیٹی بنا دی گئی ہے اور تمام ثبوت وزیراعظم کو بھجوائے جائیں گے۔
پنجاب اسمبلی میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملک محمد احمد خان نے انکشاف کیا کہ لیسکو افسران ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے رشوت لینے کے باوجود شہریوں کے کام نہیں کرتے۔ ٹرانسفارمر خراب ہونے کی صورت میں غریب عوام سے لاکھوں روپے وصول کیے جاتے ہیں اور لوگوں کو اس مقصد کے لیے چندہ اکٹھا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کھڈیاں اور کنگن پور سمیت مختلف علاقوں میں آٹھ آٹھ گھنٹے کی طویل لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے، جبکہ چھ ماہ سے ننگی تاروں کی شکایات کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہوئی جس کے باعث ایک معصوم بچہ کرنٹ لگنے سے جھلس گیا۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بجلی چوری کے نام پر پورے پورے گاؤں کی بجلی کاٹ دی جاتی ہے جبکہ لیسکو اہلکاروں کی ملی بھگت سے غیر قانونی تاریں ڈالی جاتی ہیں۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر لیسکو کے متعلقہ افسران انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش نہ ہوئے تو ان کے وارنٹ جاری کروائے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حلقے کے عوام کے مسائل کا حل ان کی اولین ترجیح ہے اور کرپشن کے خلاف کارروائی کو کسی بھی صورت سیاسی مداخلت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
پریس کانفرنس کے دوران ملک محمد احمد خان نے سیاسی جتھوں کے ذریعے وفاق پر حملوں اور نو مئی کے واقعات کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ سن 2014 سے لے کر اب تک گزشتہ 12 برسوں میں 5 مرتبہ وفاق پر جتھہ بندی کی گئی ہے، جن میں وزیراعظم ہاؤس، پی ٹی وی اور سپریم کورٹ کا محاصرہ کیا گیا۔
انہوں نے 9 مئی کے پرتشدد واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں 29 چھاؤنیوں، میانوالی ایئر بیس اور حساس اداروں کے دفاتر کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر چار سال بعد خیبر پختونخوا سے مسلح جتھے وفاق پر حملہ آور ہوتے ہیں جس سے معیشت اور دارالحکومت کا امن تباہ ہوتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مستقبل میں دوبارہ اسلام آباد پر اس قسم کی جتھہ بندی کی گئی تو اس کے نتائج 9 مئی جیسے ہوں گے، اور آئین ایسے کسی غیر قانونی اقدام کی اجازت نہیں دیتا۔
لیسکو افسران کی کرپشن پر اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان پھٹ پڑے، نومئی کی مذمت

