تحریر : ایڈوکیٹ ڈاکٹر ایم لال واگھانی
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
یمن میں پانچ سال سے کم عمر کے 22 لاکھ سے زائد بچوں کے شدید غذائی قلت سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ان میں پانچ لاکھ سے زائد بچوں کو غذائی قلت کی خطرناک ترین صورت کا سامنا ہو سکتا ہے۔ نئی لڑائی خاندانوں کو گھر چھوڑنے پر مجبور کر رہی ہے اور بچوں کے علاج تک رسائی میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔
تین ہفتوں میں تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں، جن میں لگ بھگ 71 ہزار بچے شامل ہیں۔ قابل رسائی علاقوں میں غذائی معائنے کے دوران تقریباً 2,900 بچوں میں سے ہر چار میں ایک سے زیادہ بچہ غذائی قلت کا شکار پایا گیا۔ یہ نتیجہ صرف معائنہ کیے گئے بچوں سے متعلق ہے، پورے یمن کے بچوں سے نہیں۔ لڑائی کے باعث 243 اسکول بند ہوئے یا ان میں تعلیم معطل ہوئی، جس سے تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار طلبہ متاثر ہوئے۔
رانا بشارت علی خان نے مطالبہ کیا کہ تمام فریق شہریوں کا تحفظ کریں، خوراک اور علاج تک محفوظ رسائی دیں اور بچوں کی تعلیم بحال کریں۔ شدید غذائی قلت کے شکار بچوں کو فوری علاج، جبکہ بے گھر خاندانوں کو محفوظ پناہ اور ضروری سامان فراہم کیا جائے۔
انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ مختلف ممالک میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھاتی ہے۔ اس کا بین الاقوامی کام شہریوں کے تحفظ، انسانی وقار اور خلاف ورزیوں پر جواب دہی کا مطالبہ کرنے پر مرکوز ہے۔
یمن میں پانچ سال سے کم عمر کے 22 لاکھ سے زائد بچوں کے شدید غذائی قلت سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ان میں پانچ لاکھ سے زائد بچوں کو غذائی قلت کی خطرناک ترین صورت کا سامنا ہو سکتا ہے۔ نئی لڑائی خاندانوں کو گھر چھوڑنے پر مجبور کر رہی ہے اور بچوں کے علاج تک رسائی میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔
تین ہفتوں میں تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں، جن میں لگ بھگ 71 ہزار بچے شامل ہیں۔ قابل رسائی علاقوں میں غذائی معائنے کے دوران تقریباً 2,900 بچوں میں سے ہر چار میں ایک سے زیادہ بچہ غذائی قلت کا شکار پایا گیا۔ یہ نتیجہ صرف معائنہ کیے گئے بچوں سے متعلق ہے، پورے یمن کے بچوں سے نہیں۔ لڑائی کے باعث 243 اسکول بند ہوئے یا ان میں تعلیم معطل ہوئی، جس سے تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار طلبہ متاثر ہوئے۔
رانا بشارت علی خان نے مطالبہ کیا کہ تمام فریق شہریوں کا تحفظ کریں، خوراک اور علاج تک محفوظ رسائی دیں اور بچوں کی تعلیم بحال کریں۔ شدید غذائی قلت کے شکار بچوں کو فوری علاج، جبکہ بے گھر خاندانوں کو محفوظ پناہ اور ضروری سامان فراہم کیا جائے۔
انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ مختلف ممالک میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھاتی ہے۔ اس کا بین الاقوامی کام شہریوں کے تحفظ، انسانی وقار اور خلاف ورزیوں پر جواب دہی کا مطالبہ کرنے پر مرکوز ہے۔


