لاہور: صوبے کے مختلف شہروں میں صفائی کی ناقص صورتحال اور شہریوں کی شکایات پر سخت نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے قصور، فیصل آباد اور اوکاڑا کے منیجنگ ڈائریکٹرز (ایم ڈی) کو عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت ’ستھرا پنجاب‘ پروگرام کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صفائی کے انتظامات پر بریفنگ دی گئی۔ ناقص کارکردگی پر ستھرا پنجاب سے ہٹائے جانے والے ان افسران کو فی الحال کوئی دوسری پوسٹنگ نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ وزیراعلیٰ نے صفائی کے ناقص امور پر دیگر متعلقہ ایم ڈی صاحبان کو بھی وارننگ جاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اجلاس کے دوران صفائی کے نظام کو مزید موثر بنانے کے لیے کئی اہم فیصلے کیے گئے ہیں:
باڈی کیمز کا استعمال: ستھرا پنجاب کے فیلڈ مانیٹرنگ افسران (ایف ایم اوز) کی شفاف کارکردگی اور ٹریکنگ کے لیے اب باڈی کیم لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ڈیجیٹل چالان: اینٹی لٹرنگ مہم کے تحت سیف سٹی کیمروں کی مدد سے ڈیجیٹل چالان کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس کے تحت اب تک 2156 ڈیجیٹل چالان جاری کیے جا چکے ہیں۔
15 دن کا ہدف: وزیراعلیٰ نے ڈور ٹو ڈور ویسٹ کلیکشن مہم میں نمایاں بہتری لانے کے لیے متعلقہ حکام کو 15 دن کا سخت ہدف دے دیا ہے۔
بیٹ سسٹم کی فعالیت: پنجاب بھر میں ‘ستھرا پنجاب بیٹ سسٹم’ کو مکمل طور پر فعال کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ تمام ڈویژنوں میں اینٹی لٹرنگ اسکواڈ مکمل طور پر متحرک ہیں، اور اب تک صوبے بھر میں 37,852 مقامات پر کوڑے دان (Bins) نصب کیے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ستھرا پنجاب کے حوالے سے موصول ہونے والی 676,551 شکایات میں سے 99 فیصد کا بروقت ازالہ کیا جا چکا ہے۔

