Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      مصنوعی ذہانت (AI) ایک ارب انسانوں کو موت کے منہ میں دھکیل سکتی ہے: بل گیٹس کی وارننگ

      لانگ مارچ، اسلام آباد سیف سٹی کیمروں کو نقصان پہنچانے پر 20 لاکھ جرمانہ، آرڈیننس جاری

      امریکی گھروں میں ’روبوٹ ماسی‘ کی انٹری، فی گھنٹہ 30 ڈالر (8 ہزار روپے) فیس مقرر

      پاکستان میں آئی فون 18 پرو اور پرو میکس کے پی ٹی اے اپرووڈ ماڈلز کی قیمتوں کا اعلان،

      سامارو کے آسمان پر غیر معمولی فلکیاتی منظر، شہابی پتھر یا خلائی ملبہ؟

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    اصولوں کی سیاست اور خیبر پختونخوا کا موجودہ سیاسی منظرنامہ

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر :انورزیب خان

    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

     

    خیبر پختونخوا کی سیاست میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کی سیاسی جدوجہد، قربانیاں اور عوام سے وابستگی تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں۔ کنٹینر کی سیاست، گورنر راج کی بحث اور صوبے کے موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی اصولی سیاست بھی ایک اہم موضوع کے طور پر سامنے آتی ہے۔ شیرپاؤ نے اپنی سیاسی زندگی میں ہمیشہ عوام کے درمیان رہنے اور ان کے مسائل کو براہِ راست سننے کی سیاست کو ترجیح دی ہے۔
    آفتاب احمد خان شیرپاؤ پر ماضی میں متعدد بار حملے ہوئے، تاہم ان واقعات کے باوجود ان کی سیاسی سرگرمیاں اور عوامی رابطہ ختم نہیں ہوا۔ ان کے صاحبزادوں سابق سینئر وزیر سکندر حیات خان شیرپاؤ اور مصطفیٰ خان کو بھی دہشت گرد حملوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن شیرپاؤ خاندان نے سیاسی میدان میں اپنی جدوجہد جاری رکھی اور پختون عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کا سلسلہ برقرار رکھا۔
    شیرپاؤ خاندان کی سیاسی تاریخ میں حیات محمد خان شیرپاؤ کا نام بھی نمایاں ہے۔ وہ ایک معروف عوامی رہنما تھے اور اسلامیہ کالج پشاور میں طلبہ کے درمیان موجود تھے جب انہیں دہشت گردی کا نشانہ بنا کر شہید کیا گیا۔ ان کی شہادت نے صوبے کی سیاسی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ یہی وجہ ہے کہ شیرپاؤ خاندان کی سیاسی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے اس خاندان کی قربانیوں اور عوامی وابستگی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
    موجودہ سیاسی حالات میں خیبر پختونخوا کی سیاست ایک مرتبہ پھر شدید کشمکش سے دوچار ہے۔ صوبائی حکومت کے طرزِ سیاست، احتجاجی سرگرمیوں اور کنٹینر سیاست پر مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اسی سیاسی ماحول میں گورنر راج کی باتیں بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہی ہیں۔
    آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی جانب سے گورنر راج کو مسئلے کا مستقل حل نہ سمجھنے کا مؤقف بھی اسی سیاسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کے نزدیک سیاسی مسائل کا حل سیاسی میدان میں ہی تلاش کیا جانا چاہیے اور عوامی مینڈیٹ کا احترام جمہوری نظام کی بنیادی ضرورت ہے۔ ان کا یہ مؤقف بھی سامنے آتا رہا ہے کہ صوبے کے مسائل کا حل کسی غیر معمولی انتظامی اقدام کے بجائے سیاسی عمل، عوامی رابطے اور آئینی طریقہ کار میں ہے۔
    خیبر پختونخوا کو اس وقت دہشت گردی، بے روزگاری، معاشی مشکلات، ترقیاتی ضروریات اور انتظامی مسائل سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں صوبائی سیاست کو محض احتجاج اور سیاسی کشمکش تک محدود رکھنے کے بجائے عوامی مسائل کے حل، روزگار کے مواقع، بنیادی سہولیات، امن و امان اور ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
    آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی سیاسی زندگی کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے مشکل حالات کے باوجود سیاسی عمل اور عوامی رابطے کو جاری رکھا۔ شیرپاؤ خاندان کو درپیش حملوں اور مشکلات کے باوجود عوام کے درمیان موجود رہنا اس خاندان کی سیاسی تاریخ کا اہم حصہ ہے۔
    آج خیبر پختونخوا کو ایسی سیاست کی ضرورت ہے جو سیاسی اختلاف کو جمہوری دائرے میں رکھے، عوامی مسائل کو ترجیح دے اور صوبے کے وسیع تر مفاد میں سیاسی قوتوں کو مذاکرات اور آئینی راستے پر آگے بڑھائے۔ صوبے کا مستقبل کنٹینروں، احتجاجی نعروں یا غیر معمولی انتظامی اقدامات کے بجائے مضبوط سیاسی اداروں، بہتر طرز حکمرانی اور عوامی مسائل کے عملی حل سے وابستہ ہے۔

    Related Posts

    کمالیہ کا شرمناک واقعہ: ایس ایچ او گرفتار،،، نگران افسران اور سیاسی پشتیبان کب کٹہرے میں آئیں گے؟

    سامارو میں عطائیت اور منشیات کی یلغار: ایک نوجوان کی موت یا معاشرتی قتل؟

    صاحب آباد تبلیغی مرکز میں پہلا تبلیغی اجتماع

    مقبول خبریں

    تحصیل واڑی کا علاقہ سلطان خیل اور ملحقہ دیہات بنیادی سہولیات سے محروم

    پشاور: 45 روز سے لاپتہ رکشہ ڈرائیور کی بیٹی کی بازیابی کے لیے انسانی حقوق تنظیم متحرک

    خوشاب: گوشت کے اسٹال کے تنازع پر فائرنگ، 2 افراد جاں بحق، 7 زخمی

    بہاولپور ضمنی الیکشن: مریم نواز کی کارکردگی پر عوام نے مہر ثبت کر دی، عظمیٰ بخاری

    برطانیہ میں دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام: امریکی اڈے کے قریب سے پانچ افراد گرفتار، گھر خالی کرا لیے گئے

    بلاگ

    اصولوں کی سیاست اور خیبر پختونخوا کا موجودہ سیاسی منظرنامہ

    کمالیہ کا شرمناک واقعہ: ایس ایچ او گرفتار،،، نگران افسران اور سیاسی پشتیبان کب کٹہرے میں آئیں گے؟

    سامارو میں عطائیت اور منشیات کی یلغار: ایک نوجوان کی موت یا معاشرتی قتل؟

    صاحب آباد تبلیغی مرکز میں پہلا تبلیغی اجتماع

    اسلام آباد کی بند سڑکیں اور ہماری سیاسی ذمہ داریاں

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.