تحریر :انورزیب خان
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

خیبر پختونخوا کی سیاست میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کی سیاسی جدوجہد، قربانیاں اور عوام سے وابستگی تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں۔ کنٹینر کی سیاست، گورنر راج کی بحث اور صوبے کے موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی اصولی سیاست بھی ایک اہم موضوع کے طور پر سامنے آتی ہے۔ شیرپاؤ نے اپنی سیاسی زندگی میں ہمیشہ عوام کے درمیان رہنے اور ان کے مسائل کو براہِ راست سننے کی سیاست کو ترجیح دی ہے۔
آفتاب احمد خان شیرپاؤ پر ماضی میں متعدد بار حملے ہوئے، تاہم ان واقعات کے باوجود ان کی سیاسی سرگرمیاں اور عوامی رابطہ ختم نہیں ہوا۔ ان کے صاحبزادوں سابق سینئر وزیر سکندر حیات خان شیرپاؤ اور مصطفیٰ خان کو بھی دہشت گرد حملوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن شیرپاؤ خاندان نے سیاسی میدان میں اپنی جدوجہد جاری رکھی اور پختون عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کا سلسلہ برقرار رکھا۔
شیرپاؤ خاندان کی سیاسی تاریخ میں حیات محمد خان شیرپاؤ کا نام بھی نمایاں ہے۔ وہ ایک معروف عوامی رہنما تھے اور اسلامیہ کالج پشاور میں طلبہ کے درمیان موجود تھے جب انہیں دہشت گردی کا نشانہ بنا کر شہید کیا گیا۔ ان کی شہادت نے صوبے کی سیاسی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ یہی وجہ ہے کہ شیرپاؤ خاندان کی سیاسی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے اس خاندان کی قربانیوں اور عوامی وابستگی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
موجودہ سیاسی حالات میں خیبر پختونخوا کی سیاست ایک مرتبہ پھر شدید کشمکش سے دوچار ہے۔ صوبائی حکومت کے طرزِ سیاست، احتجاجی سرگرمیوں اور کنٹینر سیاست پر مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اسی سیاسی ماحول میں گورنر راج کی باتیں بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہی ہیں۔
آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی جانب سے گورنر راج کو مسئلے کا مستقل حل نہ سمجھنے کا مؤقف بھی اسی سیاسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کے نزدیک سیاسی مسائل کا حل سیاسی میدان میں ہی تلاش کیا جانا چاہیے اور عوامی مینڈیٹ کا احترام جمہوری نظام کی بنیادی ضرورت ہے۔ ان کا یہ مؤقف بھی سامنے آتا رہا ہے کہ صوبے کے مسائل کا حل کسی غیر معمولی انتظامی اقدام کے بجائے سیاسی عمل، عوامی رابطے اور آئینی طریقہ کار میں ہے۔
خیبر پختونخوا کو اس وقت دہشت گردی، بے روزگاری، معاشی مشکلات، ترقیاتی ضروریات اور انتظامی مسائل سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں صوبائی سیاست کو محض احتجاج اور سیاسی کشمکش تک محدود رکھنے کے بجائے عوامی مسائل کے حل، روزگار کے مواقع، بنیادی سہولیات، امن و امان اور ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی سیاسی زندگی کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے مشکل حالات کے باوجود سیاسی عمل اور عوامی رابطے کو جاری رکھا۔ شیرپاؤ خاندان کو درپیش حملوں اور مشکلات کے باوجود عوام کے درمیان موجود رہنا اس خاندان کی سیاسی تاریخ کا اہم حصہ ہے۔
آج خیبر پختونخوا کو ایسی سیاست کی ضرورت ہے جو سیاسی اختلاف کو جمہوری دائرے میں رکھے، عوامی مسائل کو ترجیح دے اور صوبے کے وسیع تر مفاد میں سیاسی قوتوں کو مذاکرات اور آئینی راستے پر آگے بڑھائے۔ صوبے کا مستقبل کنٹینروں، احتجاجی نعروں یا غیر معمولی انتظامی اقدامات کے بجائے مضبوط سیاسی اداروں، بہتر طرز حکمرانی اور عوامی مسائل کے عملی حل سے وابستہ ہے۔

