نیامی (نائجر): افریقی ملک نائجر کے ریگستانی اور صحرائی خطے میں ہر سال موسمِ برسات کے اختتام پر ایک انتہائی رنگا رنگ اور انوکھا ثقافتی میلہ سجتا ہے، جسے دنیا بھر میں ’گیریول فیسٹیول‘ (Gerewol Festival) کے نام سے جانا جاتا ہے۔
یہ تقریب محض ایک تہوار نہیں بلکہ ووڈابے (Wodaabe) قبیلے کے نوجوانوں کے لیے ایک روایتی دلہن کی تلاش اور حسن کے مقابلے کا سب سے بڑا مرکز ہے، جہاں مرد حضرات خود کو سجا سنوار کر اپنے جیون ساتھی کی تلاش میں رقص کرتے ہیں۔
ستمبر اور اکتوبر کے مہینوں میں منعقد ہونے والے اس فیسٹیول میں قبیلے کے نوجوان گھنٹوں تیاری کرتے ہیں۔ مرد اپنے چہروں پر سرخ مٹی اور سفید رنگ کا خوبصورت اور روایتی میک اپ کرتے ہیں، جبکہ سروں پر رنگ برنگے پروں کے تاج اور گلے میں چمکدار موتی سجا کر قطاروں میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔
اس میلے کا سب سے دلچسپ حصہ ’یاکے‘ (Yaake) نامی روایتی رقص ہے، جسے شرکاء گھنٹوں تک انتہائی صبر، برداشت اور توازن کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ رقص کے دوران نوجوان اپنی آنکھوں کو گھماتے ہیں اور کشادہ مسکراہٹیں بکھیرتے ہیں تاکہ اپنے دانتوں کی سفیدی اور آنکھوں کی خوبصورتی کو نمایاں کر کے خواتین کی توجہ حاصل کر سکیں۔
اس پورے مقابلے میں سب سے اہم کردار خواتین کا ہوتا ہے جو ناظرین اور ججز کی حیثیت سے شرکاء کے حسن، برداشت اور انداز کا باریک بینی سے جائزہ لیتی ہیں۔ خواتین کی پسند پر ہی فاتحین کا انتخاب ہوتا ہے، جو اکثر نئی رومانوی جوڑیوں اور شادیوں کے بندھن میں بندھنے کا باعث بنتا ہے۔ صدیوں پرانی یہ ثقافتی روایت آج بھی افریقی تہذیب کا ایک انتہائی دلکش اور منفرد رنگ سمجھی جاتی ہے۔

