-
"ہماری سُنی نہ گئی، مریض فوت ہو گیا” — نشتر ہسپتال کے جونیئر عملے کے رویے کے خلاف لواحقین کا احتجاج
-
-
نشتر ہسپتال میں طبی سہولیات کا فقدان: وزیراعلیٰ مریم نواز سے وارڈز کے سرپرائز وزٹ کا مطالبہ
-
ملتان (یورو چیف مہر آصف)
نشتر ہسپتال ملتان میں جونیئر ڈاکٹرز، نرسنگ اسٹاف اور وارڈ کے عملے کی مبینہ عدم توجہی اور غفلت کے باعث ایک اور غریب لواحقین کا مریض زندگی کی بازی ہار گیا، جس نے سرکاری ہسپتالوں کے انتظامی امور پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق محمد مدثر نامی شہری اپنے مریض کی تیمارداری کے لیے گزشتہ تین روز سے نشتر ہسپتال میں مقیم تھا۔ مدثر کے مطابق ہسپتال کے سینئر ڈاکٹرز کا رویہ شائستہ اور تعاون پر مبنی تھا، تاہم جونیئر ڈاکٹرز اور نرسنگ اسٹاف کا رویہ انتہائی غير مناسب رہا۔ مریض کو ایک معمولی ڈرِپ لگوانے کے لیے بھی عملے کی منّت سماجت کرنا پڑی، مگر بار بار ٹال مٹول سے کام لیا جاتا رہا۔
شدید گرمی اور وارڈ میں اے سی فعال نہ ہونے کی وجہ سے شہری کو اپنے مریض کے لیے ذاتی طور پر باہر سے پنکھا خرید کر لانا پڑا۔ تمام تر تگ و دو اور دربدر ہونے کے باوجود بروقت توجہ نہ ملنے سے مریض بالآخر اسی بیڈ پر دم توڑ گیا۔
متاثرہ شہری کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وارڈ کا نرسنگ روم رات تقریباً 10 بجے اندر سے لاک کر دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے رات کے وقت ایمرجنسی کی صورت میں کوئی عملہ دستیاب نہیں ہوتا۔
غمزدہ مدثر نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے دست بستہ اپیل کی ہے کہ وہ نشتر ہسپتال کے وارڈز کا اچانک معائنہ کریں اور مریضوں و ان کے لواحقین سے براہِ راست درپیش مسائل اور عملے کے رویے سے متعلق معلومات حاصل کریں۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے نائٹ ڈیوٹی پر موجود عملے کی حاضری، اے سی کی عدم فراہمی اور جونیئر اسٹاف کی غفلت کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
-
نشتر ہسپتال ملتان میں عملے کی غفلت، ڈرپ اور ہوا کو ترستا مریض بیڈ پر دم توڑ گیا

