نیویارک+ریاض :سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ایک ہنگامی اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کریں گے، جس میں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کی مدد کے طریقوں پر غور کیا جائے گا۔ دوسری جانب ایران نے حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی سے خود کو الگ رکھنے کی کوشش کی ہے۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق حوثیوں نے یمن کی اقوام متحدہ سے تسلیم شدہ حکومت کے خلاف حملے کیے ہیں اور سعودی عرب پر بھی بارہا میزائل اور ڈرون حملے کیے، جس کے باعث دنیا کے سب سے بڑے توانائی برآمد کنندہ ملک سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔
یہ صورتحال فروری میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں سے شروع ہونے والی وسیع تر مشرق وسطیٰ کی جنگ کا حصہ ہے۔
سعودی، پاکستانی اور ترک وزرائے خارجہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے فریم ورک کے تحت ملاقات کی۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں مکہ اور دیگر شہری مقامات کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت کی گئی اور سعودی عرب کے اپنے دفاع کے حق کی توثیق کی گئی۔
#نيويورك | سمو وزير الخارجية الأمير #فيصل_بن_فرحان @FaisalbinFarhan يعقد اجتماعاً مع معالي نائب رئيس الوزراء وزير خارجية جمهورية باكستان الإسلامية السيد محمد إسحاق دار، ومعالي وزير خارجية الجمهورية التركية السيد هاكان فيدان، وذلك في إطار اتفاقية مكة للدفاع المشترك.… pic.twitter.com/FqSWVfY17z
— وزارة الخارجية 🇸🇦 (@KSAMOFA) September 25, 2026
بیان کے مطابق وزرائے خارجہ نے تینوں ممالک کے مسلح افواج کے سربراہان کا ہنگامی اجلاس بلانے کے انتظامات پر بھی تبادلہ خیال کیا، جس میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی مدد کے طریقوں پر غور کیا جائے گا۔ معاہدے کے تحت کسی ایک فریق پر حملہ تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
یہ اعلان ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے جمعرات کو ایک امریکی ٹی وی انٹرویو میں حوثیوں سے ایران کو الگ رکھنے کی کوشش کے کچھ ہی دیر بعد سامنے آیا۔
صدر پزشکیان نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے ایک روز بعد فاکس نیوز کے پروگرام ’سپیشل رپورٹ ود بریٹ بائر‘ میں کہا کہ ’حوثی اپنے اقدامات کے خود ذمہ دار ہیں۔‘صدر پزشکیان کا انٹرویو اور خطاب ایسے وقت میں ہوا جب امریکہ اور ایران کے درمیان لڑائی میں وقفہ آیا ہے اور نیویارک میں دونوں فریقوں کے درمیان سفارتی کوشش بھی مختصر طور پر ہوئی جبکہ قطر نے متحارب فریقوں کے درمیان ثالث کا کردار ادا کیا۔


