نیویارک: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ تہران نے ثالثوں کے ذریعے ’آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔‘
جمعرات کو نیویارک میں صحافیوں اور امریکی تھنک ٹینکس کے ارکان کے ایک گروپ سے ملاقات کے دوران ایرانی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر امریکا کی جانب سے بعض شرائط پوری کر دی جائیں تو آبنائے ہرمز ’سات دن کے اندر دوبارہ کھول دی جائے گی۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ شرائط نئی نہیں ہیں اور وہی ہیں جو اس سے قبل اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) میں اٹھائی گئی تھیں۔‘
عباس عراقچی نے یہ بھی کہا کہ ایران کا ماننا ہے کہ ’اس معاہدے پر امریکہ کے وسط مدتی انتخابات سے قبل عمل درآمد ہونا بہتر ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ معاہدہ نومبر کے انتخابات کے بعد طے پا سکتا ہے۔‘
اس کے جواب میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اس معاہدے کا وقت ’امریکہ پر منحصر ہے اور اس بات کا اعادہ کیا کہ مجوزہ شرائط گذشتہ معاہدے کی شقوں سے مختلف نہیں ہیں۔‘
امریکا ”اسلام آباد مفاہمت“ کی شرائط پوری کرے آبنائے ہرمز 7 دنوں میں کھول دینگے، عباس عراقچی

