تہران / واشنگٹن:عالمی سطح پر جاری کشیدگی اور سفارتی کوششوں کے درمیان ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ایک اہم اور بڑا بیان دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ تہران بین الاقوامی قوانین اور ’نیوکلیئر نان پرولی فریشن ٹریٹی‘ (NPT) کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے 60 فیصد تک افزودہ یورینیم ترک کرنے کے لیے تیار ہے۔
"Do you want a nuclear bomb or not?"@BretBaier cuts to the chase in an exclusive interview with Iranian President Masoud Pezeshkian, directly questioning the leader about his country's nuclear ambitions.
"Not at all. Not at all," Pezeshkian responds, insisting Iran does not… pic.twitter.com/jkFEyi9rWd
— Fox News (@FoxNews) September 24, 2026
فاکس نیوز کے صحافی بریٹ بائر (Bret Baier) کی جانب سے انٹرویو کے دوران پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ "ہاں، ہم بین الاقوامی قانون اور نان پرولی فریشن ٹریٹی ٹریٹی کی بنیاد پر اپنے تمام وعدوں کی پاسداری کریں گے؛ جو کچھ بھی ہمارے ذمہ ہے، ہم اس پر عمل کریں گے۔”
بین الاقوامی سیاسی حلقوں میں اس بیان کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے پاکستان اور دیگر دوست ممالک کی ثالثی کی کوششیں بھی عروج پر ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ایرانی صدر کا یہ موقف خطے میں امن کے قیام اور طویل المدتی تنازع کے حل کے لیے ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

