نیویارک:ہالی ووڈ کے معروف اور با اثر فلم پروڈیوسر ہاروی وائن سٹین (Harvey Weinstein) کو 2006 میں مانہٹن میں واقع اپنے اپارٹمنٹ میں سابق ٹی وی پروڈکشن اسسٹنٹ مریم ہیلی (Miriam Haley) کا جنسی استحصال کرنے کے جرم میں بدھ کے روز 15 سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔
عدالت کی کارروائی کے دوران متاثرہ خاتون مریم ہیلی نے پیش ہو کر اپنا بیان (Victim Impact Statement) ریکارڈ کرایا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ سات سالوں کے دوران انہیں کس قدر ہراسانی، تذلیل اور عوامی سطح پر بدنامی کا سامنا کرنا پڑا ہے، یہاں تک کہ وائن سٹین، ان کی قانونی ٹیم اور مبینہ طور پر پیسے لے کر پوڈکاسٹ چلانے والوں نے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ مریم ہیلی نے کہا کہ اس واقعے کے بعد سے ان کی اپنی زندگی ایک طرح کی "عمر قید” بن چکی ہے۔
مقدمے کی پیروی کرنے والی اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ اٹارنی نکول بلومبرگ نے عدالت سے استدعا کی کہ 74 سالہ وائن سٹین کو 20 سال قید اور 5 سال کی نگران مدت کی سزا دی جائے کیونکہ انہوں نے اپنے جرائم پر کبھی پشیمانی کا اظہار نہیں کیا۔
دوسری جانب، سزا سنانے سے قبل ہاروی وائن سٹین نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے کیے پر شرمندہ ہیں اور مریم ہیلی سے خلوص نیت سے معافی مانگتے ہیں۔ وائن سٹین کے وکلاء نے عدالت میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کا موکل بلڈ کسر (Blood Cancer) اور امراضِ قلب جیسی خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہے اور طویل قید کاٹنے کے قابل نہیں ہے، لہٰذا انہیں 9 سال کی کم سزا دی جائے۔
سزا سناتے ہوئے جج کرٹس فاربر (Curtis Farber) نے ریمارکس دیے کہ ہاروی وائن سٹین کو تاریخ میں صرف فلمیں بنانے کے لیے نہیں بلکہ ’می ٹو‘ (Me Too) تحریک کا منفی چہرہ ہونے کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا۔ جج نے کہا کہ وائن سٹین نے فلمی صنعت میں کام کرنے کے خواہشمند ایک ناتجربہ کار فرد کے خوابوں کا استحصال کیا۔ جج کا کہنا تھا کہ، "آپ کے پاس سب کچھ تھا، آپ کی وراثت عظمت کے ساتھ جم سکتی تھی، لیکن آپ نے مریم ہیلی کا استحصال کر کے سب کچھ خود اپنے ہاتھوں سے مٹی میں ملا دیا۔”
تواضح رہے کہ 2020 میں وائن سٹین کو اسی نوعیت کے ایک مقدمے میں 23 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، تاہم 2024 میں نیویارک کی اعلیٰ عدالت نے تکنیکی وجوہات اور مقدمے کے ضابطوں کی بنیاد پر اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ اس کے بعد 2025 میں دوبارہ مقدمہ چلا جس میں عدالت نے انہیں ایک بار پھر مریم ہیلی کے جنسی استحصال کا مجرم قرار دے دیا۔
’می ٹو‘ تحریک کے مرکزی کردار ہالی وڈ پروڈیوسر ہاروی وائن سٹائن کو 15 برس قید

