لاہور:لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایک انوکھا اور عوام دوست تاریخی فیصلہ صادر کرتے ہوئے پنجاب پولیس کو ایف آئی آر (FIR) کا فونٹ سائز بڑا کرنے کی سخت ہدایت جاری کر دی ہے۔ عدالت نے پولیس کی جانب سے کاغذ بچانے کے نام پر انتہائی چھوٹے سائز میں ایف آئی آر درج کرنے کے عمل پر شدید برہمی اور حیرت کا اظہار کیا۔
معاملے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب پولیس کے سربراہ آئی جی عبدالکریم کو عدالت میں طلب کیا اور مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ "جب تین صفحوں کا کام زبردستی ایک ہی صفحے پر سمو دیا جائے گا تو ظاہر ہے فونٹ چھوٹا ہو جائے گا؛ پولیس کہتی ہے کہ ہم کاغذ بچا رہے ہیں، لیکن پیپر بچاتے بچاتے تو ہماری اپنی آنکھیں ضائع ہو گئی ہیں!”
ایس پی کی جانب سے ایف آئی آر نہ پڑھے جانے کا معاملہ
چیف جسٹس عالیہ نیلم کے حکم پر آئی جی پنجاب لاہور ہائیکورٹ میں پیش pic.twitter.com/dsdJpvzf1m
— Muhammad Ashfaq (@m__ashfaq) September 24, 2026
چوہنگ پولیس اہلکاروں کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست پر سماعت لاہور ہائی کورٹ میں ہوئی، عدالتی حکم پر آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم عدالت میں پیش ہوئے۔دورانِ سماعت آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم نے کہا ہے کہ فونٹ کے حوالے سے پنجاب آئی ٹی بورڈ (پی آئی ٹی بی) سے معاونت حاصل کی ہے۔
چیف جسٹس نے اس بات پر سخت تشویش ظاہر کی کہ انتہائی باریک اور چھوٹے الفاظ میں لکھی گئی ایف آئی آر کو نہ صرف عام سائلین اور وکلاء کے لیے پڑھنا ناممکن ہوتا ہے بلکہ اس سے نظامِ عدل میں بھی مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب کو حکم دیا ہے کہ پورے صوبے کے تھانوں میں اب ایک ہی معیاری اور واضح فونٹ سائز میں ایف آئی آر کا اندراج یقینی بنایا جائے، تاکہ سائلین کو اپنے مقدمات کے دستاویزات پڑھنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے 29 ستمبر کو عمل درآمد رپورٹ طلب کر لی۔

