واشنگٹن ڈی سی :امریکا نے 35 ممالک کے ساتھ خفیہ معاہدوں کے تحت 25 ہزار سے زیادہ تارکین کو ایسے ملکوں میں بھجوایا ہے جہاں سے ان کا تعلق ہی نہیں تھا۔
خبر رساں ادارے کے مطابق یہ انکشاف ایک تحقیقی رپورٹ میں ہوا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنوری 2025 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد واشنگٹن نے ترقی پذیر ممالک کے ساتھ ایسے معاہدے کرنا شروع کیے جن کے تحت وہ ایسے تارکین کو لے جانے پر تیار ہوئے جن کو قانونی طور پر واپس نہ بھجوایا جا سکتا ہو۔
فاربِڈن سٹوریز کی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انتظامیہ نے اس کے لیے 140 ملین ڈالر کی رقم مختص کی جو یا تو براہ راست تارکین کو وصول کرنے والے ممالک کو ادا کی گئی یا پھر واپسی کے عمل کو آسان بنانے کے لیے اقوام متحدہ کے اداروں کو دی جا رہی ہے۔
فاربِڈن اور عالمی صحافیوں کے ایک گروپ کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق 31 اگست 2026 تک کم سے کم 25 ہزار 447 افراد کو مختلف ممالک میں بھجوایا جا چکا ہے۔
ان میں سے سب سے زیادہ قریباً 20 ہزار افراد میکسیکو بھیجے گئے جبکہ باقی افراد کو لاطینی امریکہ، افریقہ اور بحرالکاہل کے خطے کے دوسرے ممالک سمیت 27 ممالک میں بھیجا گیا جبکہ مزید سات ممالک کے ساتھ بھی ایسے معاہدے حتمی شکل طے پا چکے ہیں۔
ان معاہدوں کی شرائط مختلف ہیں جن میں یہ بھی شامل ہے کہ کن ممالک کے شہریوں کو وہاں بھیجا جا سکتا ہے اور آیا مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے افراد کو بھی قبول کیا جائے گا۔
غیرملکی خبررساں ایجنسی کی جانب سے رواں کے اوائل میں کی گئی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ واشنگٹن افریقی ممالک کو تارکین کو واپس قبول کرنے پر مجبور کرنے کے لیے ویزا پابندیوں اور دوسری سفری پابندیوں کا استعمال کر رہا ہے۔
140 ملین ڈالر کے خفیہ معاہدے، امریکا نے پاکستانیوں سمیت 25 ہزار تارکین وطن کو افریقا ، میکسیکو بھجوادیا

