سیالکوٹ (سلیم احمد اعوان شیخو)
حکومتِ پنجاب نے Punjab Private Educational Institutions Act 2026 میں اہم ترمیم کرتے ہوئے رہائشی علاقوں اور گھروں میں چلنے والے تمام ٹیوشن سینٹرز، کوچنگ سینٹرز اور اکیڈمیوں کو نجی تعلیمی اداروں کے قانونی دائرہ کار میں شامل کر لیا ہے۔ ترمیم کے بعد گھروں میں چلنے والے تعلیمی مراکز اور چھوٹے پرائیویٹ اسکول باقاعدہ ٹیکس نیٹ میں آ جائیں گے۔ ان مراکز کی عمارتوں پر پراپرٹی ٹیکس عائد ہونے اور بجلی، گیس و دیگر یوٹیلیٹیز کے کنکشنز کو گھریلو کے بجائے کمرشل تصور کیے جانے کا قوی امکان ہے۔
ایسوسی ایشن نے اس ترمیم پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ
-
اس اقدام سے بالخصوص وہ خواتین اور طالبات شدید متاثر ہوں گی جو گھروں میں محلے کے بچوں کو پڑھا کر اپنی محدود آمدنی کا ذریعہ بناتی ہیں۔
-
حکومتِ پنجاب اس ترمیم کو فوری واپس لے اور اس کے نتیجے میں عوام اور چھوٹے اداروں پر پڑنے والے اضافی مالی بوجھ پر دوبارہ غور کرے۔


