تحریر :حق نواز خان
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
حالیہ دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور ایندھن کے تحفظ کے لیے مختلف انتظامی اقدامات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔میڈیا رپورٹس میں ملک میں "Smart Lockdown” اور چار روزہ ورک ویک جیسے ممکنہ اقدامات زیرِ بحث آنے کا ذکر کیا گیا ہے۔تاہم یہ تحریر کسی حتمی سرکاری نوٹیفکیشن کے خلاف نہیں، بلکہ *ممکنہ پالیسی کے تعلیمی اثرات پر پیشگی غور* کے لیے ہے۔ 2۔ بنیادی سوال کیا ایندھن کی بچت کے لیے تعلیمی اداروں کے تدریسی دن کم کرنا ضروری ہے؟اگر ایسا فیصلہ زیرِ غور ہو تو پہلے یہ دیکھا جانا چاہیے کہ:*ایندھن کی کتنی بچت ہوگی؟*اور*اس کے مقابلے میں طلبہ کے تعلیمی وقت اور Learning Outcomes پر کیا اثر پڑے گا؟ 3۔ ہمارا تعلیمی پس منظرہمارے سکولوں میں پہلے ہی متعدد تعلیمی چیلنجز موجود ہیں:* بنیادی تعلیمی مہارتوں میں کمزوریاں* Reading اور Comprehension کے مسائل* ریاضی کی بنیادی مہارتوں میں کمی* Learning Gaps* حاضری کے مسائل* وسائل کی کمی* کمزور طلبہ کے لیے اضافی تعلیمی وقت کی ضرورتایسے ماحول میں تدریسی دن کم کرنے کے ممکنہ اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ 4۔ کمزور طالب علم کے لیے سکول کیوں ضروری ہے؟ہر طالب علم گھر پر یکساں تعلیمی سہولیات نہیں رکھتا۔بہت سے طلبہ کے لیے سکول ہی وہ جگہ ہے جہاں انہیں:* استاد کی براہِ راست رہنمائی* سوال پوچھنے کا موقع* عملی مشق* غلطی کی اصلاح* Revision* Test اور Assessment* تعلیمی ماحولمیسر آتا ہے۔اس لیے *سکول کا ایک تدریسی دن کم ہونا ہر بچے کے لیے یکساں اثر نہیں رکھتا۔ ۔ Learning Loss کا مسئلہ تعلیمی وقفہ صرف اس دن کا نقصان نہیں ہوتا۔اگر طالب علم مسلسل چند دن کلاس سے باہر رہے تو:*سبق کا تسلسل مشق Revision Assessment*کا پورا سلسلہ متاثر ہو سکتا ہے۔خاص طور پر کمزور طالب علم کے لیے اس خلا کو بعد میں پورا کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ 6۔ آئینی پہلوپاکستان کے آئین کا آرٹیکل 25-A پانچ سے سولہ سال کی عمر کے بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کی فراہمی کو ریاست کی ذمہ داری قرار دیتا ہے۔ ([Pakistani][2])اس لیے تعلیمی پالیسی بناتے وقت صرف انتظامی یا مالی ضرورت نہیں بلکہ *بچے کے حقِ تعلیم اور تعلیمی معیار* کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔ اہم قانونی احتیاطآرٹیکل 25-A کی موجودگی کا مطلب یہ نہیں کہ کسی مخصوص چار روزہ شیڈول کو خود بخود "غیر قانونی” قرار دیا جا سکتا ہے۔حتمی قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ قانون، قواعد، نوٹیفکیشن، مدت اور حالات کو دیکھ کر ہی کیا جا سکتا ہے۔- 7۔ ایندھن کی بچت: مسئلہ حقیقی، حل متوازن ہونا چاہییاگر حکومت کے سامنے ایندھن کی بچت ایک حقیقی قومی ضرورت ہو تو اس ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے سوال یہ ہونا چاہیے: کیا تعلیم کے دن کم کیے بغیر ایندھن کی بچت کے دوسرے طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں؟مثلا:* دفاتر میں Work From Home* غیر ضروری سرکاری سفر میں کمی* سرکاری گاڑیوں کے استعمال کی نگرانی* Online Meetings* غیر ضروری سرکاری سرگرمیوں میں کمی* مشترکہ Transport* School Transport کے بہتر Routes* علاقوں کے حساب سے Transport Planningیعنی: "بچت ضرور، مگر تعلیم کے بنیادی وقت کی قیمت پر نہیں۔ 8۔ سکولوں کے لیے متبادل ماڈلاگر کسی وجہ سے حکومت کو تدریسی شیڈول تبدیل کرنا ناگزیر ہو تو پہلے درج ذیل متبادل دیکھے جا سکتے ہیں: Option Aسکول معمول کے مطابق جاری رکھے جائیں، جبکہ دیگر شعبوں میں زیادہ Fuel Saving Measures نافذ کیے جائیں۔ Option Bاگر سکول کے دن کم کرنا ضروری ہو تو روزانہ تدریسی وقت اور Academic Calendar کو اس طرح ترتیب دیا جائے کہ سالانہ تدریسی وقت کا بڑا نقصان نہ ہو۔ Option Cکمزور طلبہ کے لیے خصوصی Remedial Classes رکھی جائیں۔ Option Dجہاں سہولت موجود ہو وہاں Learning Recovery کے لیے محدود Hybrid/Online Teaching استعمال کی جائے۔ 9۔ ایک اہم اصول چار دن سکول لازما چار دن کی تعلیماگر کبھی چار روزہ شیڈول ناگزیر ہو تو حکومت کو پہلے ہی واضح کرنا چاہیے:* سالانہ Academic Calendar کیا ہوگا؟* نصاب کب مکمل ہوگا؟* امتحانات کس شیڈول کے مطابق ہوں گے؟* کمزور طلبہ کا Learning Gap کیسے پورا ہوگا؟* Remedial Education کیسے دی جائے گی؟* اساتذہ کے تدریسی اوقات کیسے پورے ہوں گے؟– 10۔ فیصلے سے پہلے Data-Based Assessmentکسی بھی بڑے تعلیمی فیصلے سے پہلے کم از کم یہ ڈیٹا سامنے آنا چاہیے: 1۔فی طالب علم سالانہ تدریسی گھنٹے 2۔موجودہ Learning Outcomes 3۔کمزور طلبہ کا تناسب 4۔سکولوں میں حاضری کا ڈیٹا 5۔ممکنہ Fuel Saving 6۔چار روزہ شیڈول سے متوقع تعلیمی نقصان7۔تعلیمی نقصان پورا کرنے کی لاگتاس کے بعد *Cost-Benefit Analysis* کیا جائے۔—# 11۔ حکومت سے تعمیری تجاویزہم حکومت سے مطالبہ نہیں بلکہ درج ذیل *پالیسی تجاویز* پیش کرتے ہیں: 01تعلیمی اداروں کو Fuel Conservation Policy میں خصوصی ترجیح دی جائے۔ 02سکولوں کے تدریسی دن کم کرنے سے پہلے تعلیمی اثرات کا جائزہ لیا جائے۔03تعلیمی وقت میں کمی ناگزیر ہو تو Learning Recovery Plan لازما ساتھ دیا جائے۔ 04کمزور طلبہ کے لیے Remedial Classes کا نظام بنایا جائے۔ 05سالانہ تدریسی گھنٹوں کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی جائے۔ 06اردو، انگریزی اور ریاضی کی بنیادی مہارتوں پر خصوصی توجہ دی جائے۔ 07اساتذہ، والدین اور ماہرینِ تعلیم سے مشاورت کی جائے۔ 08Fuel Saving کے لیے پہلے غیر تعلیمی شعبوں میں کم نقصان والے اقدامات آزمائے جائیں۔ 09ہر فیصلے کے بعد طلبہ کے Learning Outcomes کی باقاعدہ Monitoring کی جائے۔ 10تعلیمی پالیسی کا مرکزی معیار صرف "کتنی بچت ہوئی” نہیں بلکہ یہ بھی ہو: "بچوں کی تعلیم پر اس بچت کی قیمت کتنی پڑی؟”– 12۔ یہ حکومت کے خلاف مہم نہیںاس تجویز کا مقصد: کسی وزیر کو تنقید کا نشانہ بنانا نہیں۔ کسی افسر کی نیت پر سوال اٹھانا نہیں۔ کسی سیاسی جماعت کے خلاف مہم چلانا نہیں۔بلکہ: پالیسی کے ممکنہ اثرات پر بات کرنا۔ طلبہ کے تعلیمی مفاد کو سامنے رکھنا۔ متبادل حل پیش کرنا۔ فیصلہ سازوں کو قابلِ عمل تجاویز دینا۔- 13۔ اصل پیغام ہم ایندھن کی بچت کے مخالف نہیں۔ ہم ایسی بچت کے طریقہ کار پر غور کی درخواست کرتے ہیں جس سے بچوں کا تعلیمی نقصان کم سے کم ہو۔کیونکہ: ایندھن آج بچایا جا سکتا ہے لیکن بچے کے ضائع ہونے والے تعلیمی وقت کو واپس لانا مشکل ہوتا ہے۔ 14۔ اختتامی پیغامپاکستان کو توانائی اور معاشی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، لیکن ان مشکلات کا حل تلاش کرتے ہوئے تعلیم کو طویل مدتی قومی سرمایہ سمجھنا ضروری ہے۔ ہمارا مقف سادہ ہے قومی بچت بھی ضروری ہے، قومی تعلیم بھی۔ لہذا ایسی پالیسی اختیار کی جائے جس میں:*Fuel Saving + Education Continuity + Learning Recovery*تینوں کو ایک ساتھ یقینی بنانے کی کوشش کی جائے۔– آخری جملہ "آج کی بچت ایسی نہ ہو کہ کل ہمیں تعلیمی نقصان کی قیمت ادا کرنا پڑے۔”


