اسلام آباد :سپریم کورٹ نے متنازع ٹویٹ کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزائیں معطل کردیں۔
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق جسٹس نعیم اخترافغان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کےدو رکنی بینچ نےدرخواستوں پرسماعت کی، عدالت عظمیٰ نے دونوں کی سزا معطلی کی درخواستیں منظور کرتے ہوئےاسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیلوں پر فیصلے تک ضمانت پر رہا کرنےکا حکم دے دیا،عدالت نےدونوں کی ضمانت 2،2 لاکھ روپے کےضمانتی مچلکوں کے عوض منظور کی۔
اس موقع پرجسٹس نعیم اختر افغان نےریمارکس دی کہ دونوں وکیل ہیں،انکی عزت رکھ رہے ہیں،انہیں بھی کہہ دیں عدالت کے ڈیکورم کا خیال رکھیں، ایک وکیل میں اور ایک عام آدمی میں فرق ہوتا ہے۔واضح رہےکہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو جنوری 2026 میں سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق کیس میں جج افضل مجوکہ نے 17،17 سال کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے کنڈکٹ پر بھی حیرانگی کا اظہار کیا۔
دو عدالتوں کے درمیان محاذ آرائی میں جسٹس نعیم اختر افغان بہت کچھ کہہ گئے ۔فیصل صدیقی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں جلد سماعت کی درخواستیں بھی مقرر نا ہونے پر جب یہ کہا کہ میں بہت سرپرائز ہو گیا جلد سماعت کی درخواستیں بھی نہیں لگا رہے تو جسٹس نعیم اختر افغان بولے ‘سرپرائز کا دور ہے اس لئے آپ بھی سرپرائز ہوں گے’۔
سپریم کورٹ کا ایڈووکیٹ ایمان مزاری،شوہر ایڈووکیٹ ہادی علی چٹھہ کو سزائیں معطل کرکے باعزت رہا کرنے کا حکم

