اسلام آباد / لاہور:پاکستان نے بھارت میں شیڈول آئندہ مینز ایشین ہاکی چیمپئنز ٹرافی 2026 کے انعقاد پر شدید سکیورٹی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایونٹ میں شرکت سے باضابطہ طور پر انکار کر دیا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) نے ایشین ہاکی فیڈریشن کو ایک سخت خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ پورے ٹورنامنٹ کو یا تو کسی محفوظ اور غیر جانبدار مقام پر منتقل کیا جائے یا پھر کم از کم پاکستان کے تمام میچز کسی تیسرے ملک میں کرائے جائیں۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین احمد وانی نے اپنے ایک اہم بیان میں اس فیصلے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ پاک بھارت موجودہ دوطرفہ کشیدہ صورتحال اور کھلاڑیوں کے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کرنا ناگزیر تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدام قومی ٹیم کے کھلاڑیوں اور آفیشلز کے لیے ایک مکمل طور پر محفوظ، باوقار اور سازگار ماحول کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
پی ایچ ایف کے صدر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایشین چیمپئنز ٹرافی اور عالمی ہاکی کے فروغ کے لیے ہمیشہ کی طرح مکمل طور پر پرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بھارت سمیت انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن (FIH) کے تمام رکن ممالک کے خلاف میدان میں اترنے کے لیے ہر وقت تیار ہے، کیونکہ ہم کھیل کو سیاست سے بالکل پاک رکھنے کے بنیادی اصول پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایشین ہاکی فیڈریشن پاکستان کی بلا تعطل اور باعزت شرکت کو یقینی بنانے کے لیے غیر جانبدار مقام کی اس منصفانہ تجویز پر مثبت اور فوری فیصلہ کرے گی۔
واضح رہے کہ مینز ایشین چیمپئنز ٹرافی 2026 رواں سال 27 اکتوبر سے 5 نومبر تک بھارت کے مختلف شہروں میں شیڈول ہے، جس میں پاکستان، بھارت، چین، جاپان، ملائیشیا اور جنوبی کوریا کی ٹاپ ٹیموں نے شرکت کرنا ہے۔ تاہم پی ایچ ایف کے اس دوٹوک انکار کے بعد ٹورنامنٹ کے انعقاد اور مستقبل پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
پاکستان کا بھارت میں ایشین ہاکی چیمپئنز ٹرافی 2026 کھیلنے سے دوٹوک انکار، بڑا مطالبہ کردیا

