امریکی ادارے ایف ڈی اے (FDA) کے طبی ڈاٹا پر مبنی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ وزن کم کرنے اور ذیابیطس کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی مشہور ادویات GLP-1 کے استعمال سے کچھ افراد میں دماغ کی ایک نایاب اور شدید بیماری سامنے آئی ہے۔2023 سے 2024 کے دوران جمع کیے گئے ڈیٹا کے جائزے کے دوران ویرنکے اینسیفالوپیتھی (Wernicke Encephalopathy) کے کل 15 کیسز سامنے آئے ہیں۔ ویرنکے اینسیفالوپیتھی دماغ اور اعصاب کی ایک سنگین بیماری ہے جو جسم میں وٹامن B1 کی شدید کمی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ بیماری جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے اور اس کے باعث مستقل طور پر یادداشت کی خرابی یا نئی یادیں بنانے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مضر اثر انتہائی نایاب ہے اور عام صارفین کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔شکاگو کے معروف معالج کارتھک اچاری (جو اس تحقیق کا حصہ نہیں تھے) نے وضاحت کی کہ یہ ادویات اس وقت دنیا بھر میں لاکھوں افراد استعمال کر رہے ہیں، اور لاکھوں کی تعداد میں سے صرف 15 کیسز کا سامنے آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ایک انتہائی نایاب (Rare) بیماری ہے اور عام طور پر پیش نہیں آتی۔
وزن کم کرنے اور ذیابیطس کی ادویات (GLP-1) سے دماغی بیماری کا نایاب خطرہ، 15 کیسز رپورٹ

