واشنگٹن:آئندہ وسط مدتی انتخابات (Midterm Elections) سے چند ہفتے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے عوامی مقبولیت کے لحاظ سے انتہائی تشویشناک خبر سامنے آئی ہے۔ ایک تازہ ترین قومی سروے کے مطابق رجسٹرڈ ووٹرز کی اکثریت نے صدر ٹرمپ کو "کرپٹ” اور "خطرناک” شخص قرار دیا ہے، جبکہ ان کی پالیسیاں، محصولات (Tariffs) اور ایران کے ساتھ جاری جنگ عوام میں سخت غیر مقبول ہوتی جا رہی ہیں۔
ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق معتبر جریدے ‘دی اکانومسٹ’ اور ‘یوگُو’ (The Economist-YouGov) کے اشتراک سے 11 سے 14 ستمبر کے دوران کیے جانے والے اس سروے میں 1,461 رجسٹرڈ امریکی ووٹرز نے حصہ لیا۔ سروے کے اعداد و شمار کے مطابق:
53 فیصد ووٹرز نے ٹرمپ کے لیے "کرپٹ” کا لفظ استعمال کیا۔
51 فیصد نے انہیں "خطرناک” قرار دیا۔
47 فیصد نے انہیں "عوام سے کٹا ہوا (out-of-touch)” اور 46 فیصد نے "ظالم” کہا، جبکہ صرف 45 فیصد نے انہیں "دلیر” مانا۔
صدارتی کارکردگی کو "مستحکم” کہنے والے افراد کی شرح محض 18 فیصد رہی، اور صرف 14 فیصد نے انہیں "غیر جانبدار یا غیر منقسم” قرار دیا۔
سروے کے نتائج میں انتہائی واضح سیاسی تقسیم دیکھنے میں آئی ہے۔ 91 فیصد ڈیموکریٹس اور 62 فیصد آزاد (Independent) ووٹرز نے ٹرمپ کو کرپٹ قرار دیا، جبکہ ریپبلکنز میں سے نصف سے بھی کم (صرف 49 فیصد) نے انہیں "ایماندار” کہا۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ترجمان ڈیوس انگل (Davis Ingle) نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے وفاقی حکومت میں بدعنوانی اور فراڈ کے خلاف بھرپور جنگ شروع کر رکھی ہے جس سے اربوں ڈالر کی بچت ہو رہی ہے۔
اگرچہ گزشتہ ماہ رائٹرز کے سروے میں ٹرمپ کی مقبولیت ریکارڈ نچلی سطح (33 فیصد) پر چلی گئی تھی، جو اس ماہ ہلکی سی بہتری کے ساتھ 35 فیصد پر آ گئی ہے، تاہم ڈلاس میں ہونے والے ریپبلکن کنونشن میں ٹرمپ نے تمام تر توجہ اپنی ذات پر مرکوز رکھی ہوئی ہے۔
انتخابات میں کامیابی کے لیے ٹرمپ نے ایک نیا پانسہ پھینکتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر ریپبلکنز نے کانگریس کا کنٹرول برقرار رکھا تو وہ ہر بالغ امریکی شہری کو 5,000 ڈالر کا ڈیویڈنڈ دیں گے—ایک ایسا وعدہ جس پر ایک ٹریلین ڈالر سے زائد لاگت آئے گی۔ تاہم، سروے کے مطابق اکثریت (56 فیصد) کو یقین ہے کہ ٹرمپ اس وعدے کو پورا نہیں کریں گے، اور 45 فیصد عوام نے اس خیال کو "برا خیال” قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وسط مدتی انتخابات سے ٹھیک پہلے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ان سخت سروے رپورٹس نے ریپبلکن قیادت کے لیے شدید مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔


