مقبوضہ جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے قانون ساز اسمبلی کے اجلاس کی مدت پر تنقید کرنے پر بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کو سخت نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن کو اسمبلی کے سیشن پر سوال اٹھانے کا کوئی اخلاقی حق حاصل نہیں ہے۔
خبر کے اہم نکات:
-
تنقید کا جواب: عمر عبداللہ نے واضح کیا کہ اسمبلی کے اجلاس کا انعقاد اور اس کا دورانیہ تمام آئینی اور قانونی ضوابط کو مدنظر رکھ کر طے کیا گیا ہے، لہٰذا بی جے پی کا اس پر واویلا مچانا بلاجواز ہے۔
-
بی جے پی کے دور کا حوالہ: انہوں نے بی جے پی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے یاد دلایا کہ ماضی میں ان کی اپنی حکومتوں اور گورنر راج کے دوران جموں و کشمیر میں جمہوری عمل کو کس طرح معطل اور محدود رکھا گیا۔
-
عوامی مسائل پر فوکس: وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت قانون سازی، عوامی مسائل کے حل اور خطے کی ترقی کو ترجیح دے رہی ہے، جبکہ اپوزیشن محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے اجلاس کی مدت جیسے معاملات کو موضوعِ بحث بنا رہی ہے۔

