کراچی:نوجوان تاجر میر رضا علی کی پراسرار موت کے معاملے میں اس وقت ایک خوفناک اور سنسنی خیز موڑ آ گیا جب جوڈیشل کمیشن کے سامنے پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے اپنے بیان میں واضح کر دیا کہ میڈیکل بورڈ کی تمام فائنڈنگز پولیس کے خودکشی کے نظریے سے بالکل مطابقت نہیں رکھتیں۔
سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عمر سیال پر مشتمل جوڈیشل کمیشن کے روبرو بیان ریکارڈ کراتے ہوئے ڈاکٹر سمیعہ سید نے انکشاف کیا کہ متوفی میر رضا کے سر پر گہری چوٹ، ناک کی ہڈی ٹوٹی ہوئی اور سر کے پچھلے حصے پر کسی سخت چیز کے لگنے کے واضح نشانات موجود تھے جو کہ موت سے قبل لگائے گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ لاش کے جسم سے اینستھیسیا بھی ملا ہے، اور اگر مقامی اینستھیسیا زیادہ مقدار میں نس کے ذریعے دیا جائے تو یہ فوری طور پر جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر سمیعہ نے یہ ہولناک انکشاف بھی کیا کہ انہوں نے اپنی پوری پیشہ ورانہ زندگی میں پہلی بار اس کیس میں "کیمیکل ٹارچر” کے شواہد دیکھے ہیں، جبکہ گولی لگنے سے ان کی پسلیاں فریکچر ہونے کے ساتھ پھیپھڑے اور دل بھی تباہ ہو گئے تھے۔ انہوں نے دورانِ سماعت یہ بھی انکشاف کیا کہ اس کیس میں انہیں خودکشی کا مؤقف اپنانے کے لیے موٹر سائیکل سواروں کی جانب سے دو روز تک دھمکیاں دی گئیں اور تعاقب کیا گیا، جس کی شکایت انہوں نے سائبر کرائم ایجنسی میں درج کرا دی ہے۔
دوسری جانب کمیشن نے پولیس کی ناقص تفتیش، شواہد چھپانے اور مجرمانہ غفلت پر ایس ایچ او گلستان جوہر عدیل افضل کی کلاس لی۔ کمیشن کے سخت سوالات کے جواب میں ایس ایچ او گیسٹ ہاؤس سے حاصل کیے جانے والے ڈی وی آر (DVR) کے غائب ہونے کے بارے میں کوئی بھی تسلی بخش وضاحت دینے سے قاصر رہے۔ متوفی کے والد میر حسین نے کمیشن کو بتایا کہ 30 جولائی کو ایس ایچ او نے خود دعویٰ کیا تھا کہ پولیس نے ملزمان کو ٹریس کر لیا ہے اور وہ اپنا شاندار ٹریک ریکارڈ دکھاتے ہوئے 48 گھنٹوں میں سب کچھ بتائیں گے۔ اس پر کمیشن نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جب پولیس ملزمان کو ٹریس کر چکی تھی، تو محض 48 گھنٹے بعد اچانک میر رضا کی موت کو خودکشی کیسے قرار دے دیا گیا؟
متاثرہ خاندان کے وکیل جبران ناصر نے کمیشن کو بتایا کہ موقع پر میمو بنانے والا اے ایس آئی فیصل رحیم وہاں موجود ہی نہیں تھا، اور خاندان کی موجودگی کے باوجود پولیس نے اپنے ہی اہلکار کو گواہ بنا لیا۔ اس پر کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "اپنے سینیئر افسران سے پوچھیں، میں صرف لگتا بے وقوف ہوں، بے وقوف ہوں نہیں۔” جوڈیشل کمیشن اس ہائی پروفائل قتل اور پولیس کی مجرمانہ سازش کے تمام تانے بانے کھولنے کے لیے مزید گہرائی سے تحقیقات کر رہا ہے۔
میر رضا کیس: ناک کی ٹوٹی ہڈی،سر پر چوٹ تھی، یہ خودکشی نہیں ،”کیمیکل ٹارچر“ کا پہلا کیس ہے، ڈاکٹر سمعیہ سید

