ایران نے امریکہ کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اقتصادی جنگ کا جواب خلیج فارس میں بحری پابندی کے ذریعے دیا جائے گا۔ تہران نے امریکی جنگی جہازوں اور فوجی اڈوں کے خلاف حکمت عملی بدلنے کا بھی دعویٰ کیا ہے
تہران: ایران نے امریکہ کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے اقتصادی جنگ جاری رکھنے کی صورت میں تہران خلیج فارس میں بحری پابندیاں عائد کرے گا۔ ایران نے ساتھ ہی دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی جنگی جہازوں اور فوجی اڈوں کے خلاف اپنی فوجی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلی کی ہے۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ حالیہ دنوں میں ایران کے نئے میزائلوں کے ذریعے واشنگٹن کو واضح پیغام دیا جا چکا ہے۔
رضائی نے لکھا، ’’حالیہ دنوں میں واشنگٹن کو ایران کے نئے میزائلوں سے واضح وارننگ مل گئی ہے۔ اقتصادی جنگ کا جواب خلیج فارس میں بحری اخراجی زون کے ذریعے ناکہ بندی کی حدود تک دیا جائے گا۔ امریکی جنگی جہازوں اور اڈوں کے حوالے سے ہماری آپریشنل پوزیشن کو بنیادی طور پر ازسرنو ترتیب دیا گیا ہے۔‘‘
ایرانی عہدیدار کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت بھی متاثر ہوئی ہے۔
رضائی نے اس سے قبل بھی کہا تھا کہ ایران خلیج فارس میں ایک نئے ’بحری اخراجی زون‘ کے قیام کا اعلان کرے گا۔ ان کے مطابق یہ علاقہ امریکی بحری ناکہ بندی کی حدود سے شروع ہو کر آبنائے ہرمز کی سمت بڑھے گا اور خلیج فارس کے بعض حصوں تک پھیلے گا۔ اس علاقے میں داخل ہونے والے ایسے بحری جہاز جو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کریں گے، انہیں ایرانی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
ایران کی جانب سے نئی دھمکی میں اقتصادی اور فوجی دونوں پہلو نمایاں ہیں۔ رضائی نے ایک طرف امریکی اقتصادی دباؤ کے جواب میں خلیج فارس میں بحری پابندیوں کی بات کی ہے تو دوسری جانب امریکی جنگی جہازوں اور فوجی اڈوں کے خلاف ایران کی نئی آپریشنل حکمت عملی کا ذکر کیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق رضائی کا میزائلوں سے متعلق اشارہ ممکنہ طور پر قاسم بصیر بیلسٹک میزائل کی جانب تھا، جس کے بارے میں ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے آبنائے ہرمز کے قریب امریکی جنگی جہازوں کے خلاف استعمال کیا گیا۔ تاہم امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس کے جنگی جہاز میزائل حملوں سے بچ گئے۔
ایران کی جانب سے خلیج فارس میں بحری پابندیوں کی دھمکی خاص طور پر اہم ہے کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔ جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل اس آبی راستے سے ہوتی تھی۔ حالیہ کشیدگی کے باعث یہاں تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت بھی نمایاں طور پر کم ہوئی ہے۔

