صبح کی روشنی سے دوری، مسلسل فون اسکرولنگ، دیر رات کھانا، تناؤ اور گھنٹوں بیٹھنا دماغی صحت اور یادداشت کو متاثر کر سکتا ہے۔
ہماری روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی عادتیں ہمارے دماغ کی ساخت اور کارکردگی کو متاثر کرتی ہیں۔ سائنسی زبان میں اسے نیوروپلاسٹیسٹی (Neuroplasticity) کہا جاتا ہے، یعنی ہمارا دماغ ہمارے تجربات اور معمولات کے مطابق مسلسل خود کو ڈھالتا رہتا ہے۔ تاہم کئی عادتیں ایسی ہیں جو انجانے میں ہماری زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں اور وقت کے ساتھ توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت اور یادداشت کو متاثر کر سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معمولی تبدیلیوں کے ذریعے ان اثرات کو بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ کون سی عادتیں دماغ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں اور ان میں بہتری کیسے لائی جا سکتی ہے۔
نیند سے بیدار ہونے کے فوراً بعد قدرتی روشنی میں جائیں
ماہرین کے مطابق صبح کی قدرتی روشنی جسم کی اندرونی گھڑی یعنی انٹرنل کلاک کو درست رکھنے اور دن بھر چوکنا رہنے میں مدد دیتی ہے۔ بیدار ہونے کے بعد پہلے گھنٹے میں اندھیرے یا مصنوعی روشنی میں گھر کے اندر رہنے سے دماغ کی قدرتی حیاتیاتی ترتیب متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں سوچنے کی رفتار اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کم ہو سکتی ہے۔
کیا کریں:
صبح اٹھنے کے فوراً بعد کچھ دیر چہل قدمی کے لیے باہر نکلیں یا 5 سے 10 منٹ تک دھوپ میں رہیں۔ ماہرین کے مطابق بادل چھائے ہونے کے باوجود قدرتی روشنی دماغ کو متحرک رکھنے کے لیے مفید ثابت ہوتی ہے۔
فون پر مسلسل اسکرولنگ سے گریز کریں
ماہرین کا کہنا ہے کہ بار بار ایپس تبدیل کرنا اور مسلسل فون اسکرول کرتے رہنا دماغ کی توجہ کو محدود کر دیتا ہے۔ جب ہم چند سیکنڈز کے اندر مختلف ایپس یا مواد تبدیل کرتے رہتے ہیں تو دماغ کسی ایک کام پر گہری توجہ مرکوز نہیں کر پاتا۔ مختلف مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ عادت یادداشت کو متاثر کرنے کے ساتھ ذہنی تھکن اور تناؤ میں بھی اضافہ کر سکتی ہے۔
کیا کریں: ماہرین ’بیچ اسکرولنگ‘ کا طریقہ اپنانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ دن بھر بار بار فون چیک کرنے کے بجائے سوشل میڈیا ایپس کو مخصوص اوقات میں، مثلاً ہر تین گھنٹے بعد، دیکھیں۔ اس طرح درمیان کے وقت میں دماغ کو پوری توجہ کے ساتھ کام کرنے کی عادت ڈالی جا سکتی ہے۔
رات دیر سے کھانا بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے
ماہرین کے مطابق رات دیر سے کھانا کھانے سے جسم کو اس وقت بھی ہاضمے کے عمل میں مصروف رہنا پڑتا ہے، جب دماغ اور جسم کو آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سے گہری نیند کے دوران دن بھر سیکھی گئی معلومات کو یادداشت میں تبدیل کرنے کا عمل متاثر ہو سکتا ہے اور صبح اٹھنے پر ذہنی تھکن محسوس ہو سکتی ہے۔ نیشنل لائبریری آف میڈیسن کے مطابق رات دیر سے کھانے سے ڈوپامین کے قدرتی ردھم میں بھی خلل پڑ سکتا ہے۔
کیا کریں: ماہرین رات کے کھانے اور سونے کے درمیان کم از کم دو گھنٹے کا وقفہ رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ سونے سے قبل کیمومائل چائے یا ہلدی والا دودھ جیسے گرم مشروبات ذہن کو پرسکون کرنے اور بہتر نیند میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
تناؤ میں مبتلا رہنے کے بجائے وجہ سمجھیں
ماہرین کا کہنا ہے کہ تناؤ کی بنیادی وجہ کو سمجھے بغیر اسے مسلسل دبانے سے دماغ کے ’بقا کا نظام‘ طویل عرصے تک غیر ضروری طور پر متحرک رہ سکتا ہے۔ جب دماغ کسی مخصوص جذبات کو درست طور پر شناخت نہیں کر پاتا تو وہ اردگرد ہونے والے معمولی واقعات کو بھی خطرے کے طور پر دیکھ سکتا ہے، جس سے مسلسل بے چینی برقرار رہتی ہے۔
ہارورڈ ہیلتھ پبلشنگ کے مطابق تناؤ کی صورت میں ایڈرینل غدود زیادہ مقدار میں کورٹیسول پیدا اور خارج کر سکتے ہیں، جس کا یادداشت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
کیا کریں:
ماہرین کے مطابق تناؤ کی اصل وجہ کو پہچاننا ضروری ہے، خواہ وہ غصہ، بے چینی یا احساسِ جرم ہو۔ اپنے جذبات کو واضح طور پر شناخت کرنے سے دماغ کے امیگڈالا حصے کی سرگرمی کو سمجھنے اور تناؤ کے ردعمل کو منظم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ امیگڈالا دماغ کا وہ حصہ ہے جو خوف اور تناؤ کے ردعمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
کام کے دوران چھوٹے چھوٹے وقفے لیتے رہیں
ماہرین کے مطابق طویل عرصے تک ایک ہی جگہ بیٹھے رہنے سے جسمانی سرگرمی کم ہو جاتی ہے، جس سے ذہنی کارکردگی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ صحت مند افراد میں بھی مسلسل ایک گھنٹے تک بغیر حرکت کیے بیٹھنے سے ذہنی دھند یعنی ’برین فوگ‘ اور ذہنی الجھن محسوس ہو سکتی ہے۔
کیا کریں:
ہر گھنٹے کے بعد چند منٹ کے لیے اٹھیں، جسم کو اسٹریچ کریں یا تھوڑی دیر چہل قدمی کریں۔ معمولی سی جسمانی حرکت بھی جسم اور دماغ کو تازگی فراہم کرنے، توجہ بہتر بنانے اور ذہنی کارکردگی برقرار رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔

