تحریر: راجہ نورالہی عاطف
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
لاہور پریس کلب محض صحافت، قلم اور خبر کا مرکز نہیں بلکہ معاشرے کے مختلف طبقات کو جوڑنے والی ایک ایسی معتبر جگہ بھی ہے جہاں علم، ادب، ثقافت، سماجی شعور اور انسانی اقدار کو فروغ دینے کے لیے مختلف تقریبات کا انعقاد ہوتا رہتا ہے۔ اسی خوبصورت روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے گورننگ باڈی لاہور پریس کلب اور نیشنل ویمن جرنلسٹس فورم کے زیرِ اہتمام لاہور پریس کلب میں ایک روح پرور اور بابرکت محفلِ میلاد النبی ﷺ کا انعقاد کیا گیا، جس میں خواتین صحافیوں، صحافی برادری اور ان کے اہلِ خانہ نے بھرپور شرکت کرکے محبتِ رسول ﷺ کا اظہار کیا۔
محفلِ میلاد کا ماحول شروع ہی سے عقیدت، محبت اور روحانی کیفیت سے معمور تھا۔ درود و سلام، تلاوتِ قرآنِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ کی صداؤں نے لاہور پریس کلب کے ماحول کو ایک منفرد نورانیت عطا کردی۔ یہ محفل اس بات کا خوبصورت اظہار تھی کہ صحافت کے مشکل اور مصروف میدان سے وابستہ خواتین بھی اپنے دینی، روحانی اور تہذیبی رشتوں کو پوری محبت کے ساتھ زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
اس بابرکت تقریب کے انتظامات میں صدر نجف فرزانہ چوہدری، گورننگ باڈی لاہور پریس کلب کی رکن رابعہ عظمت، جنرل سیکرٹری درخشندہ علمدار اور انفارمیشن سیکرٹری نجف نبیلہ اکبر نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کی کاوشوں سے محفل نہایت منظم، باوقار اور یادگار بن گئی۔
محفل میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جن میں آمنہ مجتبیٰ، آسیہ سائل خان، سنبل مالک، مہک زبیر، عنبرین فاروق اور فرزانہ بٹ شامل تھیں۔ ان معزز خواتین کی شرکت نے تقریب کی اہمیت میں مزید اضافہ کیا۔ ان کی موجودگی اس امر کی غماز تھی کہ معاشرے کی بااثر خواتین صحافی برادری کی مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔
محفل کی نظامت کے فرائض سینئر صحافی ازکیٰ مقصود اور سابق رکن پنجاب اسمبلی و ایڈیٹر سائبان میگزین کنول نسیم نے انجام دیے۔ دونوں نے انتہائی خوبصورت انداز میں محفل کے مختلف مراحل کو آگے بڑھایا اور حاضرین کو عقیدت و محبت کی اس روحانی فضا سے جوڑے رکھا۔
محفل کا آغاز لائبہ کی تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا۔ اس کے بعد معروف خواتین نعت خواں حافظ قاریہ عائشہ، اقراء سلیم، لائبہ سلیم اور ان کی ساتھیوں نے اپنی پرسوز اور دلنشیں آوازوں میں نعتیہ کلام پیش کیا۔ نعتِ رسول ﷺ کی گونج نے حاضرین کے دلوں کو محبت و عقیدت سے سرشار کردیا۔
محفل میں صحافی خاندانوں کی نئی نسل نے بھی اپنی خوبصورت آوازوں سے سماں باندھ دیا۔ سینئر صحافی عافیہ جہانگیر اور صحافی فاروق کی صاحبزادیوں اعشال زینب اور کشف سمیت بیگم سینئر صحافی عظمیٰ عاصم، صفیہ خالدہ صابری اور معروف شاعرہ نجمہ شاہین نے بھی نعتیہ کلام پیش کرکے محفل کو مزید پرنور بنا دیا۔ یہ منظر خاص طور پر قابلِ تحسین تھا کہ صحافیوں کے اہلِ خانہ بھی اس روحانی اجتماع کا حصہ بنے اور نئی نسل نے بھی مذہبی و تہذیبی اقدار سے وابستگی کا عملی مظاہرہ کیا۔
محفل میں خواتین صحافیوں اور نجف ممبرز کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جن میں سعدیہ صلاح الدین، مبشرہ سلطان، فوزیہ حامد، عطیہ زیدی، بیگم جاوید فاروقی، فوزیہ گوہر، عفت علوی، غزالہ عصمت، ثمن خان، لبنیٰ خان، تابندہ زاہد ندیم، صائمہ نذیر، شاہین راشد، تہزین طاہر، فوزیہ سلطانہ، بیگم فاروق سپرا، میمونہ صدیقہ، اجالا ریاض اور ثمرہ فاطمہ شامل تھیں۔
دیگر خواتین شرکاء میں حلیمہ سعدیہ، صائمہ سجاد، ناہید اختر، صابرہ عظمت، شہلہ عادل، خالدہ اشفاق، نازیہ بٹ، رخسانہ لیاقت، نبیلہ شاہین، صبا چودھری، روبینہ شاہین، ایمان فاطمہ، شیزرے فاطمہ، عمارہ، نادیہ اور سحرش بھی شریک تھیں۔
اس محفل کی ایک خوبصورت خصوصیت یہ بھی رہی کہ مرد صحافیوں کے اہلِ خانہ نے خصوصی طور پر بھرپور شرکت کی۔ اس طرح یہ تقریب صرف خواتین صحافیوں تک محدود نہ رہی بلکہ پورے صحافتی خاندان کا ایک خوبصورت روحانی اجتماع بن گئی۔
محفلِ میلاد کے انعقاد میں جماعتِ اسلامی پاکستان ویمن ونگ اور ہمدرد فاؤنڈیشن کا خصوصی تعاون بھی شامل رہا۔ تقریب کے اختتام پر شرکاء میں لنگر تقسیم کیا گیا۔ یوں محفلِ میلاد درود و سلام، محبت و عقیدت اور باہمی اخوت کے حسین جذبات کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔
درحقیقت ایسی محافل معاشرے میں محبت، برداشت، اخوت اور روحانی وابستگی کو فروغ دینے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ آج کے تیز رفتار اور مصروف دور میں جب انسان خبروں، مسائل اور معاشی و سماجی الجھنوں میں گھرا ہوا ہے، ایسی بابرکت محافل دلوں کو سکون اور روح کو تازگی عطا کرتی ہیں۔
لاہور پریس کلب میں منعقد ہونے والی یہ محفل اس اعتبار سے بھی قابلِ تحسین ہے کہ اس نے صحافت سے وابستہ خواتین کو ایک ایسے پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جہاں قلم اور خبر کے ساتھ ساتھ عشقِ رسول ﷺ، ادب، عقیدت اور خاندانی اقدار کو بھی اجاگر کیا گیا۔
یہ محفل دراصل اس عہد کی تجدید تھی کہ صحافت کے میدان میں سرگرم خواتین اپنے پیشہ ورانہ فرائض کے ساتھ ساتھ اپنی دینی، اخلاقی اور تہذیبی روایات کی پاسداری کو بھی اہمیت دیتی ہیں۔


