برلن:جرمنی کے مشرقی صوبے سیکسنی انہالٹ (Saxony-Anhalt) میں ہونے والے اہم ترین صوبائی انتخابات میں مہنگائی اور امیگریشن مخالف پاپولسٹ جماعت ‘الٹرنیٹو فار جرمنی’ (AfD) نے شاندار کامیابی حاصل کر لی ہے۔ تاہم، دوسری جنگِ عظیم کے بعد ملک میں پہلی بار کسی انتہائی دائیں بازو کی حکومت بنانے کا خواب صرف چند نشستوں کے فرق سے پورا نہ ہو سکا۔
حتمی نتائج کے مطابق اے ایف ڈی نے 43.8 فیصد ووٹ حاصل کرکے پانچ سال قبل کے مقابلے میں اپنی پوزیشن دوگنی کر لی، لیکن وہ 83 رکنی پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل کرنے سے محض تین نشستیں دور رہ گئی۔ دوسری جانب جرمن چانسلر فریڈرک مرز کی حکمراں جماعت ‘کرسچن ڈیموکریٹس’ (CDU) کو تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا اور وہ صرف 17.2 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر چلی گئی۔
اے ایف ڈی کے گورنر کے امیدوار 35 سالہ الیخنڈر زیگمنڈ نے اس کامیابی کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ووٹرز نے واضح پیغام دے دیا ہے کہ موجودہ پالیسیاں اب مزید نہیں چل سکتیں۔ روایت کے مطابق روایتی سیاسی جماعتوں کی جانب سے اے ایف ڈی کے ساتھ اتحاد نہ کرنے کی نام نہاد ‘فائر وال’ کی پالیسی برقرار ہے، جس کی وجہ سے صوبے میں کسی مستحکم حکومت کی تشکیل ایک پیچیدہ چیلنج بن گئی ہے۔ سی ڈی یو کے سیکرٹری جنرل نے اس نتائج کو انتہائی تلخ اور شکست قرار دیا ہے، جبکہ مبصرین اسے چانسلر فریڈرک مرز کی کمزور ہوتی ہوئی مقبولیت کا بڑا عکاس قرار دے رہے ہیں۔
تارکین وطن کیلئے ڈراؤنا خواب،جرمنی کے صوبائی انتخابات انتہائی دائیں بازو کی اے ایف ڈی پارٹی نے جیت لئے

