واشنگٹن:نوبل امن انعام یافتہ مایہ ناز ماہرِ نفسیات ڈاکٹر ہنری ابرام نے انتباہ جاری کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ مہینوں میں دنیا کے لیے اور بھی زیادہ خطرناک شخصیت اختیار کر چکے ہیں۔
ڈاکٹر ابرام ان معتبر طبی ماہرین میں شامل ہیں جنہوں نے رواں برس اپریل میں صدر ٹرمپ کی دماغی اور ذہنی فٹنس پر سوالات اٹھاتے ہوئے انہیں عہدے سے ہٹانے کا پرزور مطالبہ کیا تھا، اور اب انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ٹرمپ غصے کے عالم میں جوہری ہتھیار کا بٹن دبا سکتے ہیں جبکہ انہیں اس کے خوفناک اور مہیب نتائج کا کوئی حقیقی ادراک نہیں۔
بدھ کے روز ایک معروف ریڈیو شو کے دوران میزبان ڈین اوبیداللہ نے ڈاکٹر ابرام سے سوال کیا کہ کیا ٹرمپ کی ذہنی حالت کے حوالے سے ان کے مؤقف میں کوئی تبدیلی آئی ہے، جس پر ڈاکٹر ابرام نے دوٹوک انداز میں جواب دیا کہ "ہاں، اگر کچھ بدلا ہے تو حالات مزید بدتر ہو چکے ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان کی ذہنی کیفیت میں بظاہر وہی پرانی علامات نظر آرہی ہیں، تاہم بار بار سامنے آنے والے تصدیقی شواہد یہ ثابت کرتے ہیں کہ صورتحال کتنی خطرناک ہو چکی ہے اور اس کا کیا حل ہونا چاہیے۔
اپنے دعوے کو مزید واضح کرنے کے لیے ڈاکٹر ابرام نے دو انتہائی واضح اور جاندار مثالیں دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "اگر کسی ایئر لائن کے پائلٹ میں وہ آدھی علامات بھی پائی جائیں جو امریکی صدر میں موجود ہیں، تو ہم اسے ہرگز طیارے میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دیں گے اور نہ ہی کوئی اس کے ساتھ سفر کرنا چاہے گا۔ بالکل اسی طرح ہم ایک ایسے نیورو سرجن کو بھی آپریشن تھیٹر میں داخل ہو کر سرجری کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہمارے پاس ایک ایسا نظام موجود ہے جو صدر کی صحت کے تمام معاملات کو ایک گہرے اور پراسرار پردے میں چھپا کر رکھتا ہے۔”
ماہرِ نفسیات کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ اس لیے بھی انتہائی سنگین نوعیت اختیار کر جاتا ہے کیونکہ امریکی صدر کے پاس دنیا کے سب سے بڑے فوجی اور جوہری ہتھیاروں کا اکیلا اور بلا شرکتِ غیرے کنٹرول موجود ہے۔ ڈاکٹر ابرام نے خبردار کیا کہ غصے، اشتعال، الجھن یا ناقص جبلت کے عالم میں ٹرمپ کی جانب سے ایٹمی ہتھیار کا استعمال اب پہلے سے کہیں زیادہ قریب اور حقیقی خطرہ بن چکا ہے، اور دنیا اس وقت ایک انتہائی خطرناک موڑ پر کھڑی ہے۔
ایٹمی تباہی کا خطرہ: صدر ٹرمپ کی حالت پہلے سے بدتر ہے، نوبل انعام یافتہ ماہرِ نفسیات ڈاکٹر ہنری ابراہام

