ملتان (ملک جابر عباس سے) — ملتان ڈویژن میں ریلوے کے قلیوں کو ٹھیکہ داری نظام سے نکال کر براہِ راست اپنی خدمات انجام دینے اور اپنی محنت سے حاصل ہونے والی آمدن خود رکھنے کا حق دے دیا گیا۔یہ اہم فیصلہ وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی کے دورۂ ملتان کے موقع پر قلیوں کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے کیا گیا۔ نئے انتظام کے تحت رجسٹرڈ قلی اپنی خدمات کے عوض حاصل ہونے والی آمدن میں خود حق دار ہوں گے اور اپنی کمائی اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال کرسکیں گے۔اس حوالے سے تمام قانونی اور انتظامی مراحل مکمل ہونے کے بعد پاکستان ریلوے آفیسرز کلب ملتان کے بیڈمنٹن ہال میں ایک باقاعدہ تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملتان ڈویژن سے تعلق رکھنے والے رجسٹرڈ قلیوں نے شرکت کی۔تقریب میں ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ ملتان محمد خالد خان، ڈی سی او ملتان، سپرنٹنڈنٹ ریلوے پولیس محمد امجد منظور خان، اسسٹنٹ ٹرانسپورٹیشن اینڈ کمرشل آفیسر محمد بلال سمیت دیگر ریلوے افسران موجود تھے۔تقریب کے دوران قلیوں نے اپنے نمائندے کے انتخاب کے لیے باقاعدہ ووٹنگ کی۔ انتخابی عمل قلیوں کی مرضی اور باہمی رضامندی سے مکمل ہوا، جس کی ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ ملتان محمد خالد خان نے باقاعدہ توثیق کردی۔قلیوں نے اس موقع پر وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی، چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان ریلوے محمد حفیظ اللہ خان اور ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ ملتان محمد خالد خان کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹھیکہ داری نظام سے آزادی اور اپنی محنت کی کمائی براہِ راست حاصل کرنے کا موقع ملنا ان کے لیے ایک بڑی سہولت اور خوش آئند اقدام ہے۔قلیوں نے فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ریلوے حکام کے حق میں نعرے بھی لگائے اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ریلوے سے وابستہ محنت کش طبقے کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف قلیوں کے معاشی مسائل میں کمی آنے کی توقع ہے بلکہ انہیں اپنی محنت کا براہِ راست مالی فائدہ بھی حاصل ہوگا۔ اسے ریلوے ملازمین اور محنت کش طبقے کی فلاح، شفافیت اور معاشی تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

