وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پاکستان اور ایران کے تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے خطے میں دیرپا امن و استحکام کے لیے تحمل اور مسلسل سفارتی رابطوں کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہان مملکت کے اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر سے ملاقات کی۔ وزیراعظم کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ کے مطابق ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی، جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی روابط اور خطے کی بدلتی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دورہ ایران اور ان کی تعمیری بات چیت کو بھی مثبت پیش رفت قرار دیا۔
شہباز شریف نے 18 جون کو امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کے تحت طے پانے والی مفاہمت کو آگے بڑھانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ خطے میں پائیدار امن کے لیے قابل عمل راستہ فراہم کرتا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے علاقائی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کی مستقل سفارتی کوششوں کو سراہا اور مختلف شعبوں میں اسلام آباد کے ساتھ تعاون مزید بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔
دونوں رہنماؤں نے جون میں صدر مسعود پزشکیان کے دورہ پاکستان کے دوران کیے گئے فیصلوں کے مطابق دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ انہوں نے علاقائی روابط اور عوامی سطح پر رابطوں کے فروغ کی کوششوں کا جائزہ لیا۔
صدر مسعود پزشکیان نے موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلم ممالک کے درمیان مزید اتحاد پر زور دیا۔
وزیراعظم نے ایرانی صدر کو جلد از جلد پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت دی، جبکہ مسعود پزشکیان نے شہباز شریف کو دسمبر 2026 میں تہران میں ہونے والی اقتصادی تعاون تنظیم سربراہ اجلاس میں شرکت کی دعوت دی۔
شہباز شریف 31 اگست سے 2 ستمبر تک کرغزستان کے سرکاری دورے پر ہیں، جہاں وہ ایس سی او سربراہان اجلاس سے خطاب کریں گے۔ دورے کے دوران پاکستان 2026-27 کے لیے ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی چیئرمین شپ بھی سنبھالے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی ہم منصب سے ملاقات اہم موضوعات پر تبادلہ خیال

