واشنگٹن ڈی سی :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کی شام ایران کے خلاف امریکہ کی جانب سے جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے امکان کو مسترد کر دیا اور کہا کہ امریکہ نے ایران کو عسکری طور پر شکست دے دی ہے۔
جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے امکان کو مسترد کرتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا: ’’میں کبھی یہ نہیں کہوں گا، لیکن جواب ہاں ہے۔۔۔ میں اسے مکمل طور پر مسترد کرتا ہوں۔ اس کی ضرورت نہیں۔۔۔ کیا ہی احمقانہ سوال ہے!‘‘
اس سے قبل ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایرانیوں کو بھرپور نشانہ بنا رہا ہے اور اچھا کام کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ صورتحال پر نظر رکھے گا اور دیکھے گا کہ حالات کس رخ پر جاتے ہیں۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا اور اسے ’’ناکام ریاست‘‘ قرار دیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ امریکہ ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔
قبل ازیں مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر ایک پوسٹ کے ذریعے ایران میں مظاہرین کی ہلاکت کے ذمہ دار افراد پر مقدمہ چلانے کا مطالبہ کردیا۔ ٹرمپ نے لکھا کہ ان پر انسانیت کے خلاف جنگی جرائم کے تحت مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ تعداد اب تک دستیاب سرکاری اعداد و شمار اور ایسے آزادانہ تخمینوں سے نمایاں طور پر مختلف ہے جن میں ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں کم بتائی گئی ہے۔
ٹرمپ نے کسی مخصوص عدالت کا نام نہیں لیا۔ یاد رہے امریکہ دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت کو تسلیم نہیں کرتا اور ان کی انتظامیہ نے اس پر پابندیاں بھی عائد کر رکھی تھیں۔
ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں مزید کہا کہ ایران سرکاری طور پر ایک ناکام ریاست ہے۔ یہ ختم ہو چکا ہے اور اس کے پاس نہ نیوی ہے، نہ ایئر فورس، نہ ہی کوئی قابلِ استعمال کرنسی اور نہ ہی وہ اپنے فوجیوں یا پولیس کو تنخواہیں دے رہا ہے۔ وہاں افراطِ زر کی شرح 300 فیصد تک پہنچ چکی ہے اور ان کی قیادت سخت افراتفری کا شکار اور ملک کی مناسب نمائندگی کرنے سے قاصر ہے۔
واضح رہے ایران میں گزشتہ دسمبر کے آخر میں شدید اقتصادی بحران اور مقامی کرنسی ’’ ریال ‘‘ کی قدر میں اچانک گراوٹ کی وجہ سے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے تھے۔ ان مظاہروں میں 8 اور 9 جنوری کو اس وقت شدید تلخی آئی جب یہ بے چینی بڑے شہروں تک پھیل گئی اور سکیورٹی اداروں نے مظاہروں کو ختم کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے تھے۔ بعد میں 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی افواج نے ایران پر حملے کیے جس کے بعد اس خطے میں جوابی حملوں کی لہر دوڑ گئی۔

