سنگاپور:دنیا بھر میں اپنی ترقی اور خوبصورتی کے لیے مشہور جزیرہ نما شہر سنگاپور اس وقت ایک سنگین بحران سے دوچار ہے، جہاں شرحِ پیدائش میں تاریخی گراوٹ کے پیشِ نظر حکومت نے شہریوں کو خاندان شروع کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے خطیر مالی پیکج کا اعلان کیا ہے۔
سنگاپور کے وزیراعظم لارنس وانگ نے اعلان کیا ہے کہ حکومت ہر بچے کی پیدائش سے لے کر 17 سال کی عمر تک تقریباً 70 ہزار ڈالر (تقریباً S$70,000) کی براہ راست مالی معاونت فراہم کرے گی۔ اس پالیسی کا آغاز بچے کی پیدائش پر 10 ہزار ڈالر کے گرانٹ سے ہوتا ہے، جبکہ طبی اور تعلیمی اخراجات کے لیے مزید گرانٹس بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت نے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے ماہانہ فیسوں میں کمی اور والدین کی چھٹیوں میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔
حکومت کی جانب سے اتنے بڑے مالی پیکج کے باوجود عوام کی طرف سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ 34 سالہ فنانس ورکر لی اور ان کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی موجودہ زندگی سے خوش ہیں اور بچے کی پیدائش ان کے پرسکون ماحول، باہر کھانے اور سفر کرنے کے معمولات کو متاثر کر سکتی ہے۔ یوگو (YouGov) کے ایک حالیہ سروے کے مطابق سنگاپور کے ہر چار میں سے ایک فرد کا کہنا ہے کہ ان کا بچوں کی پیدائش کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سنگاپور میں زندگی کی انتہائی بلند لاگت، انتہائی مسابقتی تعلیمی نظام اور کام کی جگہوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے نوجوان جوڑے اولاد کی ذمے داری اٹھانے سے کتراتے ہیں۔ ملک کی مجموعی شرحِ پیدائش (Total Fertility Rate) گر کر محض 0.87 پر آ چکی ہے، جو کہ مطلوبہ سطح (2.1) سے انتہائی کم ہے۔ اس بحران کے نتیجے میں سنگاپور اس سال باضابطہ طور پر "سپر ایجڈ” معاشروں کی فہرست میں شامل ہونے جا رہا ہے، جہاں آبادی کا 21 فیصد سے زائد حصہ بزرگوں پر مشتمل ہے۔

