پاکستان کے سرکاری ہسپتالوں کی حالتِ زار بھی تازہ ہو گئی، کرپشن اور غفلت کا یہ انوکھا انکشاف عالمی سطح پر زیرِ بحث،
کمپالا / اسلام آباد:یوگنڈا میں وزارتِ صحت کی سربراہ نے کرپشن اور بدعنوانی کا پردہ فاش کرنے کے لیے جو انوکھا طریقہ اپنایا، اس نے پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا دی ہے۔ یوگنڈا کی وزیرِ صحت "سارہ” نے ایک عام شہری کی طرح برقع پہن کر ایک سرکاری ہسپتال میں شوگر (بلڈ شوگر) کا ٹیسٹ کروانے کے لیے پہنچ گئیں۔
تاہم ہسپتال کے عملے نے یہ جانے بغیر کہ ان کے سامنے ملک کی وزیرِ صحت کھڑی ہیں، ٹیسٹ کرنے کے عوض ان سے صاف طور پر رشوت کا مطالبہ کر دیا۔
Meanwhile – In Uganda ,Minister of Health "Sarah" disguised herself in the attire of a veiled woman and went to a government hospital for a blood sugar test, but they asked her to pay a bribe, and when she refused because treatment in government hospitals is free, they- 1/2 – pic.twitter.com/qSgygLgbvp
— Tim Mutsekwa (@tsumekwa) August 30, 2026
جب وزیرِ صحت نے یہ کہہ کر پیسے دینے سے انکار کیا کہ قانون کے مطابق سرکاری ہسپتالوں میں علاج مکمل طور پر مفت ہے، تو ہسپتال کے عملے نے نہ صرف ان کا ٹیسٹ کرنے سے انکار کر دیا بلکہ انتہائی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں کسی بھی قسم کی طبی امداد دینے یا تعاون کرنے سے بھی صاف انکار کر دیا۔ اس تذلیل پر وزیرِ صحت نے فوری طور پر اپنا نقاب الٹ دیا اور اپنی اصلی شناخت ظاہر کر دی۔ اپنی وزیر کو اپنے سامنے دیکھ کر ہسپتال کے عملے کے ہوش اڑ گئے، اور وزیر صحت سارہ نے موقع پر ہی پولیس بلا کر رشوت خور عملے کے تمام افراد کو گرفتار کروا دیا۔
۔ پاکستان کے چھوٹے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں بھی عام غریب مریضوں کے ساتھ بالکل ایسا ہی ناروا سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ برسرِ زمین صورتحال یہ ہے کہ پاکستان بھر کے سرکاری طبی اداروں میں غریب عوام کو مفت ادویات اور ٹیسٹ کی سہولت فراہم کرنے کے دعوے تو بہت کیے جاتے ہیں، مگر عملی طور پر قطاروں میں کھڑے بے بس مریضوں کو ٹیسٹ کروانے یا ڈاکٹروں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے اکثر نام نہاد فیسوں یا عملے کی جانب سے مبینہ رشوت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اگر پاکستان کے وزراء اور اعلیٰ حکام بھی اسی طرح چھاپے مار کر عام عوام کے روپ میں ہسپتالوں کا اچانک معائنہ کریں، توشائد یہاں کا نظام بھی درست ہوسکے۔

