واشنگٹن / کاراکاس:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور بڑا سفارتی اور اقتصادی دھماکہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن نے وینزویلا کے ساتھ ایک تاریخی معاہدہ طے پا لیا ہے، جسے انہوں نے "دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا تیل کا معاہدہ” قرار دیا ہے۔ اس ڈیل کے نتیجے میں شیورون (Chevron)، ایکسون موبل (Mobil) اور دیگر بڑی امریکی توانائی کمپنیوں کی وینزویلا کے تیل کے بازار میں واپسی اور اجارہ داری کا راستہ مکمل طور پر ہموار ہو گیا ہے۔
President Trump just announced that the United States has officially signed the single largest OIL DEAL in human history with Venezuela. 🇺🇸🇻🇪
US has secured majority control over a staggering 65 billion barrels of proven oil reserves, entirely funded through private enterprise… pic.twitter.com/a0pzU6dBc2
— Donald J Trump Posts TruthSocial (@TruthTrumpPost) August 29, 2026
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں انکشاف کیا کہ وینزویلا کی عبوری حکومت اور نجی شعبے کی شرکت سے ہونے والے اس معاہدے کے بعد امریکہ نے وینزویلا کے ثابت شدہ 65 ارب بیرل سے زائد تیل کے ذخائر میں سے نصف سے زیادہ پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ ان کے مطابق اس معاہدے پر امریکی ٹیکس دہندگان کو کوئی لاگت برداشت نہیں کرنی پڑے گی، بلکہ اس سے امریکہ کے اپنے تیل کے ذخائر دگنے سے بھی زیادہ ہو جائیں گے۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک طرف ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی رسد شدید متاثر ہوئی ہے، اور دوسری طرف امریکہ میں پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج بن چکی تھیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شیورون اور دیگر بڑی امریکی نجی تیل کمپنیوں کے لیے یہ معاہدہ کسی لاٹری سے کم نہیں ہے، کیونکہ وہ طویل عرصے سے وینزویلا کے خام تیل کے ذخائر میں طویل مدتی سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کر رہی تھیں۔
مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس معاہدے کے تحت وینزویلا کے 12 اہم ترین تیل کے فیلڈز کو ترقی دینے کا کام انھی نجی اور امریکی کمپنیوں کے سپرد کیا جائے گا، جس سے نہ صرف عالمی منڈی میں تیل کی رسد میں نمایاں اضافہ ہوگا بلکہ طویل مدت میں امریکہ میں ایندھن کی قیمتیں بھی نیچے لانے میں مدد ملے گی۔
وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز نے اس معاہدے کی پرزور توثیق کرتے ہوئے اسے ملک کے لیے ایک "تاریخی موڑ” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ڈیل سے وینزویلا کی مفلوج معیشت کی بحالی پر انتہائی گہرے اور مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ متوقع منصوبوں کے تحت ملک میں تقریباً 100 ارب ڈالر سے زائد کی نجی سرمایہ کاری متوقع ہے، جبکہ وینزویلا کی حکومت کو اس کے نتیجے میں 209 ارب ڈالر سے زیادہ کی ٹیکس آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اس پیشرفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات مضبوط ہوں گے اور وینزویلا میں نجی سرمایہ کاری کا نیا دور شروع ہوگا۔ تاہم، یونیورسٹی آف ٹیکساس کے انرجی انسٹیٹیوٹ کے سینئر ریسرچ فیلو جارج پینیون سمیت دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کے ذخائر کا کنٹرول عملی طور پر کس طرح منتقل ہوگا اور اس طویل مدتی عمل کا طریقہ کار کیا ہوگا، اس کی حتمی تفصیلات ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔

