واشنگٹن / نیویارک:امریکی تاریخ کے انتہائی ہائی پروفائل جفری ایپسٹن اسکینڈل میں سزا یافتہ برطانوی نژاد سماجی شخصیت غزیسلین میکسویل کے لیے عدالتی دروازے مکمل طور پر بند ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ نیویارک کی ایک وفاقی عدالت نے ان کی تمام قانونی اپیلیں اور درخواستیں مسترد کرتے ہوئے ان کے مؤقف کو بے بنیاد قرار دے دیا ہے، جس کے بعد ان کی رہائی یا سزا میں کمی کے تمام عدالتی امکانات معدوم ہو چکے ہیں۔
دی گارجین کی رپورٹ کے مطابق مین ہٹن کی وفاقی عدالت کے جج نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ ٹرائل اور سزا کے دوران میکسویل کے آئینی حقوق کی پامالی کے تمام دعوے من گھڑت اور قانونی طور پر کمزور ہیں۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ سپریم کورٹ سمیت تمام اعلیٰ ترین عدالتوں سے ریلیف نہ ملنے کے بعد اب میکسویل کی رہائی کا واحد سہارا صرف اور صرف وائٹ ہاؤس کی جانب سے ملنے والی صدارتی معافی (Pardon) ہی رہ گیا ہے۔
عدالتی کواڑ بند ہونے کے بعد واشنگٹن کے سیاسی ایوانوں میں یہ چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں کہ آیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس متنازع شخصیت کو صدارتی معافی سے نوازیں گے یا نہیں۔ دوسری جانب، سیاسی اسٹریٹجسٹس اور مبصرین کا دوٹوک مؤقف ہے کہ میکسویل کو کسی بھی قسم کی معافی دینا سیاسی خودکشی کے مترادف ہوگا۔
ایپسٹن کے متاثرین کی قانونی نمائندگی کرنے والے وکلاء نے اس پیش رفت پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر صدارتی اختیار کا استعمال کرتے ہوئے اس مجرمہ کو ریلیف دیا گیا تو یہ دنیا بھر کے مظلوم بچوں اور خواتین کے حقوق کے ساتھ سنگین مذاق اور انصاف کا قتلِ عام ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حساس معاملہ آنے والے دنوں میں امریکی سیاست میں ایک طوفان برپا کر سکتا ہے۔
ایپسٹین فائلز کیس :غزیسلین میکسویل کی تمام قانونی اپیلیں مسترد: کیا صدر ٹرمپ صدارتی معافی دیں گے؟

