تہران میں جنگ کے دوران بنائی گئی دل کو چھو لینے والی تصویر ’’دردناک آغوش‘‘ (Painful Hug) نے پہلا انعام جیت لیا
تہران / ایتھنز:جنگ کی تلخیوں اور خوف کے ماحول میں تخلیق ہونے والے ایک پُراثر شاہکار نے عالمی سطح پر بڑا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ معروف ایرانی فوٹوگرافر مریم سعیدپور کو 2026 کے بین الاقوامی فوٹوگرافی ایوارڈز (IPA) میں ان کی جنگی سیریز "دردناک آغوش” (Painful Hug) پر "فائن آرٹ فوٹوگرافر آف دی ایئر” قرار دے دیا گیا ہے، جس کے ساتھ ہی وہ مقابلے کے سب سے بڑے پروفیشنل پرائز کی فائنلسٹ بھی بن گئی ہیں۔
بین الاقوامی فوٹوگرافی ایوارڈز (IPA) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، "Painful Hug” ایک انتہائی ذاتی نوعیت کی تصویر ہے جو تہران میں جنگ کے دنوں کے دوران بنائی گئی۔
یہ تصویر محض ایک آغوش کے سادہ سے اشارے کے ذریعے خوف، تحفّظ اور امن کی شدید تڑپ کو انتہائی خوبصورتی اور گہرائی کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ IPA کے جیورر پٹی او ہالوران نے اس فن پارے میں درد، سکون اور خوف کے درمیان موجود کشمکش کو بے حد سراہا ہے۔
اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مریم سعیدپور نے بتایا کہ انہوں نے جنگ کے وہ خوفناک دن اپنے گھر کی چھت پر گزارے، اس دوران ان کی دلی خواہش تھی کہ وہ پورے تہران کو اپنی باہوں میں سمیٹ لیں اور اسے ہر قسم کے نقصان سے بچا لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کاش دنیا کے رہنما ایک دوسرے کو گلے لگا لیں تاکہ زمین پر کبھی کوئی جنگ نہ ہو۔
اس باوقار مقابلے میں پیشہ ورانہ زمرے کی فاتح بننے پر مریم سعیدپور کو 1,000 ڈالر کا انعام دیا گیا ہے، اور وہ اب دیگر 11 پیشہ ور کیٹیگریز کے فاتحین کے ساتھ مل کر "انٹرنیشنل فوٹوگرافر آف دی ایئر” کے ٹائٹل اور 10,000 ڈالر کے بڑے انعام کے لیے فائنل کی دوڑ میں شامل ہیں۔ اس سال کے مجموعی فاتح کا اعلان رواں سال 11 اکتوبر کو ایتھنز کے تاریخی بیناکی میوزیم میں منعقد ہونے والی شاندار IPA ایوارڈ گالا تقریب میں کیا جائے گا۔

