لندن :21 سابق بین الاقوامی کرکٹ کپتانوں، جن میں مائیکل ایتھرٹن، ایلن بارڈر، سنیل گاواسکر، ایڈم گلکرسٹ، کپل دیو اور اسٹیو وا شامل ہیں، نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر حکومت پر زور دیا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے سپریم کورٹ کے حکم کے تحت طبی معائنے کی تکمیل یقینی بنائی جائے اور ان کے اہل خانہ سے ملاقاتوں سے متعلق عدالتی احکامات پر عمل کیا جائے۔
23 اگست کو لکھے گئے خط میں سابق کپتانوں نے کہا ہے کہ وہ عمران خان کے طبی علاج اور فلاح و بہبود کے حوالے سے دوسری مرتبہ خط لکھ رہے ہیں۔ اس سے قبل 6 ماہ پہلے 14 سابق بین الاقوامی کپتانوں نے بھی ان کی طبی نگہداشت کے لیے اپیل کی تھی۔
خط پر دستخط کرنے والوں کے مطابق عمران خان کے طبی معائنے سے متعلق حالیہ پیش رفت کے بعد مزید 7 سابق کپتان بھی اس اپیل میں شامل ہوگئے ہیں۔
سابق کرکٹ کپتانوں نے سپریم کورٹ کے مبینہ حکم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو طبی بورڈ سے معائنے کے لیے اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی، جس میں ان کے ذاتی معالجین اور ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی شامل ہونا تھیں۔ انہوں نے ہفتہ وار خاندانی ملاقاتوں کی مبینہ بحالی کا بھی خیرمقدم کیا۔
تاہم سابق کپتانوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ عمران خان کو اسپتال میں مبینہ طور پر صرف چند گھنٹے رکھنے کے بعد ریاست کی جانب سے مقرر کردہ طبی ٹیم کے معائنے اور انہیں طبی طور پر فِٹ قرار دیے جانے کے بعد واپس اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کے اہل خانہ اور قانونی ٹیم کا مؤقف رہا ہے کہ یہ عمل سپریم کورٹ کی ہدایات پر پورا نہیں اترتا، کیونکہ عدالت کی ہدایت کے مطابق تشکیل پانے والے طبی بورڈ کو اپنا معائنہ مکمل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
خط میں کہا گیا، ’’ہم پاکستان کے داخلی قانونی معاملات پر فیصلہ سنانے کی پوزیشن میں نہیں اور نہ ہی یہ ہمارا اختیار ہے۔‘‘ سابق کپتانوں نے مزید کہا کہ ان کی اپیل کا مقصد انسانی ہمدردی کے تقاضوں کے مطابق سلوک اور مناسب طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔
21 سابق کپتانوں نے حکومت پر زور دیا کہ عدالت کی ہدایت کے مطابق طبی بورڈ، جس میں عمران خان کے ذاتی ڈاکٹرز بھی شامل ہوں، کو ان کی صحت کا ’’مکمل اور آزادانہ معائنہ‘‘ کرنے کی اجازت دی جائے، بالخصوص دائیں آنکھ کی بینائی متاثر ہونے کی اطلاعات کے پیش نظر۔
انہوں نے ہفتہ وار خاندانی ملاقاتوں پر بلا تعطل عملدرآمد کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ طبی معائنے کے بعد تجویز کیا جانے والا کوئی بھی علاج بلا تاخیر فراہم کیا جائے۔
سابق کپتانوں نے کہا، ’’ان کے معاملے سے متعلق قانونی اور سیاسی دلائل اپنی جگہ، لیکن عدالت کے حکم پر ہونے والے طبی معائنے کو حقیقتاً مکمل کرانا بنیادی انسانی شائستگی کا تقاضا ہے اور ہماری نظر میں یہ کوئی متنازع مطالبہ نہیں۔‘‘
خط پر سابق کپتانوں مائیکل ایتھرٹن، الیکس بلیک ویل، ایلن بارڈر، مائیکل بریئرلی، گریگ چیپل، ایان چیپل، بیلنڈا کلارک، الیسٹر کک، سنیل گاواسکر، لی جرمَن، ایڈم گلکرسٹ، ڈیوڈ گوور، کم ہیوز، ناصر حسین، کلائیو لائیڈ، کپل دیو، ارجنا راناٹنگا، اینڈریو اسٹراس، دلیپ وینگسارکر، اسٹیو وا اور جان رائٹ نے دستخط کیے ہیں۔
عمران خان کا علاج یقینی بنائیں، 21 سابق کرکٹ کپتانوں کا وزیراعظم کو خط

