"آپ یا تو ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف” امریکا کی ساری دنیا کو پرانی دھمکی
تہران/واشنگٹن:امریکا کی جانب سے ایران پر عائد کی جانے والی نئی اور سخت اقتصادی پابندیوں کے بعد تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی ایک نئے خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ ایران نے ان اقدامات کو "معاشی دہشت گردی” اور "انسانیت کے خلاف جرم” قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے دھمکیاں دراصل امریکی عوام کی توجہ اپنے ملک کے سنگین معاشی مسائل سے ہٹانے کا ایک حربہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی ناکام پالیسیاں ایرانی عوام کے دلوں میں امریکا کے خلاف مزید نفرت پیدا کریں گی اور اس کا نتیجہ واشنگٹن کی مزید بڑی ناکامیوں کی صورت میں نکلے گا۔
"آپ یا تو ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف”
دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران کو اب "عالمی تاریخ کی سب سے بڑی مربوط اقتصادی تنہائی” کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک، کمپنیوں اور ہوائی اڈوں کے لیے بھی سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ نے اپنے اتحادیوں کو دو ٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ وہ کہاں کھڑے ہیں؛ "آپ یا تو ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف۔”
”پابندیاں تو 73 برس سے جاری ہیں“
ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ نئی پابندیاں 73 برسوں سے جاری امریکی دشمنی کا ایک اور ثبوت ہیں۔ ایران نے خاص طور پر 19 اگست 1953 کی بغاوت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات امریکی اسٹیبلشمنٹ کی انسانیت دشمن اور تسلط پسندانہ سوچ کو بے نقاب کرتے ہیں۔ تہران نے اعلان کیا ہے کہ ان پابندیوں کو مسلط کرنے والے ذمہ دار افراد "گھناؤنے جرائم کے ارتکاب کے لیے قانونی چارہ جوئی کے مستحق ہیں۔”
اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مزید اقدامات کے بارے میں حتمی تفصیلات آنا ابھی باقی ہیں، تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ وائٹ ہاؤس فروری میں جاری کیے گئے ایک ایگزیکٹو آرڈر کو استعمال کر سکتا ہے۔ اس آرڈر کے تحت ایران کے ساتھ براہِ راست یا بالواسطہ تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف (محصولات) عائد کیے جا سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ چین اور بھارت جیسے بڑے ممالک ایرانی تیل کے بڑے خریدار ہیں، اور اگر امریکا نے اپنی ثانوی پابندیوں کا دائرہ کار وسیع کیا تو عالمی معیشت پر اس کے انتہائی گہرے اور تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایران نے اپنے بیان میں اعادہ کیا ہے کہ یہ پابندیاں اس کے قومی وقار اور خود مختاری کے عزم کو ہرگز متزلزل نہیں کر سکتیں۔

