نواب شاہ (رپورٹ: نفیس آرائیں)
شہدادپور ملدسی کی رہائشی بیوہ آسیہ زوجہ علی خان لغاری نے نواب شاہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ شوہر کی وفات کے بعد پہلی اہلیہ کے بچوں نے مبینہ طور پر تمام جائیداد پر قبضہ کرکے فوتی کھاتہ بھی اپنے نام منتقل کروا لیا ہے، جبکہ اسے اور اس کے تین بچوں کو ان کے قانونی و شرعی حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
بیوہ آسیہ نے بتایا کہ علی خان لغاری کی پہلی اہلیہ سے آٹھ بچے تھے، جبکہ پہلی اہلیہ کے انتقال کے بعد علی خان لغاری نے اس سے دوسری شادی کی، جس سے اس کے تین بچے ہیں۔ شوہر کے انتقال کے بعد جائیداد کی تقسیم کے معاملے پر ضلع سانگھڑ کے معززین کی موجودگی میں ایم این اے اللہ دین جونیجو کے پاس فیصلہ بھی ہوا، تاہم مخالف فریق نے مبینہ طور پر فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔
انہوں نے کہا کہ بعدازاں محمد خان جونیجو کے پاس بھی معاملہ لے جایا گیا، جہاں مخالف فریق کو طلب کیا گیا، تاہم وہ مبینہ طور پر پیش نہیں ہوئے۔ آسیہ نے الزام عائد کیا کہ اب اسے اور اس کے بچوں کو سنگین نتائج اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
بیوہ خاتون نے صدر مملکت آصف علی زرداری، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، فریال تالپور، وزیرِ داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار اور دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر جائیداد میں اس کے اور اس کے بچوں کے قانونی و شرعی حق کا تحفظ یقینی بنایا جائے، جبکہ دھمکیوں کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔

