(mRNA) تھراپی نے جلد کے کینسر (میلانوما) کو پھیلنے سے روکنے میں بڑی کامیابی حاصل کر لی،گردے، مثاتے اور لبلبے (پینکریاز) کے کینسر کے لیے بھی کارآمد ثابت
واشنگٹن:دوا ساز کمپنیوں ‘موڈرنا’ (Moderna) اور ‘مرک’ (Merck) نے اعلان کیا ہےکہ ان کی تیار کردہ ذاتی نوعیت کی ایم آر این اے (mRNA) تھراپی نے کلینیکل ٹرائلز کے آخری مرحلے میں جلد کے کینسر (Skin Cancer) کو دوبارہ پھیلنے سے روکنے کے اپنے ہدف کو شاندار طریقے سے حاصل کر لیا ہے۔
اعلان کے بعد وال اسٹریٹ میں ہلچل مچ گئی اور دونوں کمپنیوں کے حصص میں ہوشربا اضافہ دیکھا گیا ۔ یہ کامیابی موڈرنا اور مجموعی طور پر ایم آر این اے ٹیکنالوجی کے لیے ایک انتہائی اہم موڑ پر سامنے آئی ہے
یہ منفرد تھراپی، جو اگلے سال تک تجارتی سطح پر متعارف کرائی جا سکتی ہے، گردے، مثانے اور لبلبے کے کینسر کے علاج کے لیے بھی ڈھل سکتی ہے۔ اس پیش رفت سے موڈرنا کی پوزیشن میں ایک حیرت انگیز تبدیلی آ سکتی ہے، جس کی مارکیٹ ویلیو کورونا کے لئے ایجاد کردہ کوویڈ ویکسین کی طلب میں کمی کے باعث 90 فیصد سے زیادہ گر گئی تھی۔ واضح رہے کہ رواں ماہ کمپنی نے ایف ڈی اے (FDA) سے موسم سرما کے فلو کے لیے نئی ایم آر این اے ویکسین کی منظوری بھی حاصل کی ہے۔
‘انٹسمیران’ (intismeran) کہلانے والی اس تجرباتی تھراپی کا تجربہ مرک کی کینسر کی دوا ‘کیٹرڈا’ (Keytruda) کے ساتھ مل کر 1,100 سے زائد ایسے مریضوں پر کیا گیا جن کے خطرناک میلانوما (جلد کا کینسر) کے ٹیومرز جراحی کے ذریعے نکال دیے گئے تھے۔ اس امتزاج نے اکیلی کیٹرڈا کے استعمال کے مقابلے میں علاج کے دوران واضح اور معنی خیز بہتری دکھائی ہے۔
ایم آر این اے پر مبنی یہ ادویات بنیادی طور پر مدافعتی نظام کو تربیت دیتی ہیں کہ وہ مریض کے اندر موجود ان میوٹیشنز (تبدیلیوں) کو تلاش کرے جو ٹیومر کا سبب بنتی ہیں۔ یہ کیموتھراپی کے برعکس ہے، جو کینسر کے خلیات کو نقصان پہنچاتی ہے یا تباہ کرتی ہے۔
بدھ کے روز موڈرنا کے حصص 177 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوئے جبکہ مرک کے شیئرز میں 12.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ٹی ڈی کووین (TD Cowen) کے تجزیہ کاروں نے اسے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا ہے۔
کمپنی حکام کا کہنا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ یہ کامیابی لوگوں کو ایم آر این اے کو صرف ایک ویکسین کی حد تک محدود سمجھنے یا اسے وبائی دور کی ناپسندیدہ یادوں سے جوڑنے کی سوچ سے باہر نکالے گی، کیونکہ یہ کینسر کے علاج میں ایک انقلابی لمحہ ہے۔

