تحریر: راجہ نورالہی عاطف
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
اسلامی تقویم میں ماہِ ربیع الاول کو ایک منفرد اور غیر معمولی مقام حاصل ہے۔ یہ وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو دنیا میں مبعوث فرما کر انسانیت پر عظیم ترین احسان فرمایا۔ آپ ﷺ کی تشریف آوری صرف عرب کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے رحمت، ہدایت، محبت، امن اور فلاح کا پیغام لے کر آئی۔ اسی لیے ربیع الاول کا مہینہ اہلِ ایمان کے لیے عقیدت، محبت اور شکرگزاری کا خصوصی موقع بن جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا: "وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ” یعنی اے محبوب! ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ یہ آیتِ مبارکہ حضور اکرم ﷺ کی عالمگیر شخصیت اور آپ کی بعثت کے مقصد کو انتہائی جامع انداز میں بیان کرتی ہے۔ آپ ﷺ نے ایک ایسے معاشرے میں قدم رکھا جہاں جہالت، تعصب، ظلم، ناانصافی، طبقاتی تقسیم اور اخلاقی پستی عام تھی، مگر آپ ﷺ نے اپنے حسنِ کردار، عدل، رحم، محبت اور تعلیمات کے ذریعے انسانوں کے دل بدل دیے۔
ربیع الاول ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ محبتِ رسول ﷺ محض ایک جذباتی کیفیت کا نام نہیں بلکہ آپ ﷺ کی سنت اور اسوۂ حسنہﷺ کو اپنی زندگی میں اختیار کرنے کا نام ہے۔ اگر ہم واقعی حضور نبی کریم ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو ہمارے معاملات میں سچائی، ہمارے رویوں میں نرمی، ہمارے کردار میں پاکیزگی، ہمارے معاشرے میں عدل اور ہمارے دلوں میں دوسروں کے لیے ہمدردی نظر آنی چاہیے۔
رسولِ اکرم ﷺ نے انسانوں کو رنگ، نسل، زبان اور قبیلے کے امتیاز سے بالاتر ہو کر اخوت و مساوات کا درس دیا۔ آپ ﷺ نے کمزوروں، یتیموں، مسکینوں، بیواؤں اور ضرورت مندوں کے حقوق پر خصوصی زور دیا۔ پڑوسی کے حقوق، والدین کی خدمت، رشتہ داروں سے حسنِ سلوک، بچوں سے شفقت، خواتین کے احترام اور معاشرے کے ہر فرد کے ساتھ انصاف آپ ﷺ کی تعلیمات کا بنیادی حصہ ہیں۔
آج ہمارے معاشرے کو سب سے زیادہ ضرورت انہی تعلیمات کو عملی زندگی کا حصہ بنانے کی ہے۔ ہم ربیع الاول میں محافلِ میلاد، درود و سلام اور سیرت النبی ﷺ کی مجالس کا اہتمام کرتے ہیں، جو یقیناً محبت اور عقیدت کے خوبصورت اظہار ہیں۔
سیرتِ طیبہ ﷺ ہمیں بتاتی ہے کہ عبادت کے ساتھ ساتھ حسنِ اخلاق، حقوق العباد اور کردار کی پاکیزگی بھی بے حد اہم ہے۔
ربیع الاول ہمیں اتحادِ امت کا درس بھی دیتا ہے۔ سیرتِ رسول ﷺ ہمارے لیے ایک ایسا روشن راستہ ہے جو محبت، اخوت، برداشت اور باہمی احترام کی طرف لے جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ معاشرے میں نفرت کے بجائے محبت کو فروغ دیں۔
اس بابرکت مہینے کا ایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم نئی نسل کو سیرتِ رسول ﷺ سے روشناس کرائیں۔ بچوں اور نوجوانوں کو بتایا جائے کہ ہمارے پیارے نبی ﷺ صرف ایک تاریخی شخصیت نہیں بلکہ قیامت تک پوری انسانیت کے لیے بہترین نمونہ ہیں۔ قرآنِ کریم ہمیں واضح طور پر بتاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔
آپ ﷺ نے دشمنوں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک، کمزوروں کے ساتھ شفقت اور مظلوموں کے ساتھ ہمدردی کا عملی نمونہ پیش کیا۔ اگر ہم ان اصولوں کو اپنی اجتماعی زندگی میں نافذ کرلیں تو ہمارے گھروں، معاشرے اور ملک میں امن و سکون کی فضا قائم ہوسکتی ہے۔
ماہِ ربیع الاول دراصل ہمیں تجدیدِ عہد کا موقع فراہم کرتا ہے—یہ عہد کہ ہم اپنی زندگیوں میں سنتِ رسول ﷺ کو زیادہ سے زیادہ اپنائیں گے، اپنے معاملات درست کریں گے، حقوق العباد کا خیال رکھیں گے، والدین کا احترام کریں گے، پڑوسیوں کے حقوق ادا کریں گے اور اپنے معاشرے میں محبت، رواداری اور اخوت کو فروغ دیں گے۔
آئیے ہم اپنے دلوں اور کردار کو عشقِ رسول ﷺ کے نور سے منور کریں۔ اپنی زبان کو درود و سلام سے، اپنے دل کو محبتِ مصطفیٰ ﷺ سے اور اپنے اعمال کو سنتِ نبوی ﷺ سے آراستہ کریں۔
ربیع الاول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ رحمتِ عالم ﷺ کی آمد کا حقیقی جشن یہی ہے کہ ہماری زندگی میں رحمت، ہمارے کردار میں اخلاق، ہمارے معاملات میں دیانت، ہمارے معاشرے میں انصاف اور ہمارے دلوں میں انسانیت پیدا ہو۔ یہی محبتِ رسول ﷺ کا حقیقی تقاضا اور یہی اس بابرکت مہینے کا سب سے خوبصورت پیغام ہے۔


