واشنگتن: امریکی محکمہ انصاف (DOJ) نے ایرانی حکومت کی مبینہ پشت پناہی سے کام کرنے والے 17 افراد پر مشتمل سائبر ہیکرز کے نیٹ ورک کے خلاف نئے اور سخت الزامات عائد کرتے ہوئے فردِ جرم عائد کر دی ہے۔ ان ملزمان پر امریکا کی متعدد یونیورسٹیوں، نجی کمپنیوں اور سرکاری اداروں کو ہیک کرنے اور حساس ڈیٹا چوری کرنے کا الزام ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ’ریوارڈز فار جسٹس‘ پروگرام کے تحت ان مطلوب افراد میں سے کئی کے بارے میں درست معلومات یا ان کے ٹھکانے کا پتہ بتانے والے کے لیے 1 کروڑ ڈالر (10 ملین ڈالر) تک کے نقد انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔
محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ تمام افراد ایک ایرانی ادارے ’مبنا انسٹی ٹیوٹ‘ کے ساتھ مل کر کام کر رہے تھے۔ یہ ادارہ مبینہ طور پر ایران کے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) اور دیگر سرکاری اداروں کی جانب سے منظم سائبر حملے اور ہیکنگ مہمات چلاتا رہا ہے۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ اس ہیکنگ مہم کا نشانہ سیکڑوں امریکی اور بین الاقوامی جامعات، درجنوں نجی کمپنیاں اور کم از کم پانچ امریکی وفاقی و ریاستی سرکاری ادارے بنے ہیں۔ اس سے قبل مارچ 2018 میں دائر کی گئی فردِ جرم میں ان 17 میں سے 9 افراد کو نامزد کیا گیا تھا جنہوں نے امریکی محکمہ محنت، اقوام متحدہ اور ہوائی و انڈیانا کے کمپیوٹر نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا تھا۔ نیویارک میں موجود اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے فی الحال اس حوالے سے کوئی باقاعدہ ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔
تعلیمی اداروں اور پروفیسرز کو نشانہ بنایا گیا:
نیویارک کے جنوبی ضلع کے امریکی وکیل جیمی میکڈونلڈ نے بتایا کہ منگل کے روز سامنے آنے والے نئے الزامات اس وسیع تر ریاستی نیٹ ورک کو بے نقاب کرتے ہیں جو امریکی یونیورسٹیوں، تجارتی اداروں اور سرکاری اداروں سے املاکِ فکریہ (intellectual property) اور ریسرچ ڈیٹا چرانے میں ملوث تھا۔
امریکی تحقیقاتی اداروں کے مطابق، مبنا انسٹی ٹیوٹ نے کم از کم 2013 سے 2017 کے دوران دنیا بھر کے پروفیسرز کے ایک لاکھ سے زائد اکاؤنٹس کو نشانہ بنایا۔ اس دوران امریکا کی 144 اور دیگر ممالک کی 178 جامعات میں تقریباً 8 ہزار پروفیسرز کے ای میل اکاؤنٹس کو کامیابی سے ہیک کیا گیا اور حساس معلومات چوری کی گئیں۔
17 ایرانی ہیکرز پر فرد جرم عائد ، امریکا کا گرفتاری یا معلومات دینے پر ایک کروڑ ڈالر انعام کا اعلان

