لندن: برطانیہ کے علاقے ہرٹ فورڈ شائر (Hertfordshire) میں واقع ایک فیملی فارم ’گریولی فروٹ فارم‘ نے 1912 کے تاریخی سانحہ ’آر ایم ایس ٹائی ٹینک‘ کے ڈوبنے کے واقعے سے مشابہت رکھنے والا بچوں کا ایک نیا جھولا (Ride and Slide) متعارف کرایا ہے، جس پر سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
صرف دو پاؤنڈ قیمت والے اس مکینیکل جھولے میں ٹائی ٹینک کے پچھلے حصے (Stern) کی ہو بہو نقل بنائی گئی ہے، جہاں بچوں کو ایک متحرک میکانزم کے ذریعے اوپر اٹھا کر نیچے سلائیڈ پر پھینکا جاتا ہے۔ جیسے ہی یہ جھولا سوشل میڈیا کی زینت بنا، والدین اور مبصرین نے اسے انتہائی غیر حساس اور 1912 کے اس المیے میں جان بحض ہونے والے 1,500 افراد کی توہین قرار دیا۔
عوامی تنقید کے دباؤ پر فارم کے مالکان نے ابتدا میں اس کا نام تبدیل کر دیا تھا، تاہم سوشل میڈیا پر ایسے حامیوں کے پیغامات موصول ہونے کے بعد جنہوں نے اس تنقید کو مسترد کیا اور اسے ’وک بریگیڈ‘ (Woke brigade) کی مداخلت قرار دیا، مالکان نے اپنا فیصلہ واپس لیتے ہوئے جھولے کا نام دوبارہ ’ٹائی ٹینک‘ ہی رکھ دیا۔
فارم انتظامیہ کے اس دو ٹوک رویے کے بعد برطانیہ میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جہاں ایک طرف لوگ اسے تاریخ کے سب سے بڑے المیے کا مذاق اڑانے کے مترادف قرار دے رہے ہیں، وہیں دوسری طرف کچھ حلقے اس کاروباری فیصلے کا دفاع بھی کر رہے ہیں۔
برطانیہ میں ٹائی ٹینک جہاز جیسا بچوں کا جھولے والا سلائیڈ بنانے پر ہنگامہ،

